یوکرین کو نیا صدر ملنا چاہیے، روسی ڈیزل معاہدے پر زیلنسکی کی تنقید پر ٹرمپ کا سخت ردعمل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین سے نیا صدر منتخب کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ واشنگٹن کے ڈیزل معاہدے پر سخت تنقید کی تھی۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کے لیے نیا صدر لانے کا وقت آ گیا ہے، کیونکہ زیلنسکی روسی ریفائنریز پر حملوں کے ذریعے دنیا بھر میں ڈیزل کی فراہمی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ ان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات ہوئی ہے اور روس عالمی منڈی میں بڑی مقدار میں ڈیزل جاری کرے گا، جس کے بعد روس نے ہفتے کے روز ڈیزل برآمدات پر عائد پابندی جزوی طور پر ختم کرنے کا اعلان بھی کر دیا۔ عالمی سطح پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ فروری میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد سے ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے اگلے ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔
زیلنسکی کا جواب
دوسری جانب زیلنسکی نے ڈیزل معاہدے کو ماسکو کے حوصلے بڑھانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس نے پابندیوں میں نرمی کا شکریہ اس طرح ادا کیا کہ زاپوریژیا کے رہائشی علاقوں پر بم برسائے۔ اس روسی حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔
یوکرین اور اس کے یورپی اتحادیوں نے بھی پابندیوں میں نرمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ کیف کا موقف ہے کہ واشنگٹن کو سودے بازی کے بجائے ماسکو پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کشیدگی امریکا اور یوکرین کے تعلقات میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتی ہے۔



