پاکستان ہاکی لیگ کا اسلام آباد میں باضابطہ آغاز، پہلا سیزن 2027 میں ہوگا، چھ سے آٹھ فرنچائز ٹیمیں اور غیر ملکی کھلاڑی شامل ہوں گے

اسلام آباد: پاکستان ہاکی فیڈریشن نے بدھ کو وفاقی دارالحکومت میں پاکستان ہاکی لیگ کا باضابطہ آغاز کر دیا۔ یہ وہ منصوبہ ہے جس پر فیڈریشن کافی عرصے سے کام کر رہی تھی، اور اس کا مقصد سیدھا سا ہے: قومی کھیل کو دوبارہ اس قابل بنانا کہ اس میں پیسہ بھی آئے، کھلاڑی بھی بنیں اور شائقین بھی لوٹیں۔
پہلا سیزن 2027 میں کھیلا جائے گا اور اس میں چھ سے آٹھ فرنچائز ٹیمیں شامل ہوں گی۔ لیگ کے حقوق میڈیا کاسٹ کو دیے گئے ہیں، جن کا انتخاب اسی سال ہونے والی بولی کے عمل کے بعد کیا گیا تھا۔ لیگ کا ڈھانچہ ایف آئی ایچ ہاکی پرو لیگ اور انڈین ہاکی لیگ جیسی فرنچائز لیگز کو سامنے رکھ کر بنایا جا رہا ہے، یعنی مختصر فارمیٹ، شہروں سے جڑی ٹیمیں اور نجی فرنچائز مالکان۔
غیر ملکی کھلاڑی، مقامی فائدہ
منصوبے کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ معروف غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی معاہدے دیے جائیں گے اور وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ہی ڈریسنگ روم میں ہوں گے۔ فیڈریشن کا خیال ہے کہ یہ تجربہ مقامی کھلاڑیوں کو جدید پیشہ ورانہ معیار سے روشناس کرائے گا، اور پاکستانی کوچز و ماہرین کو بھی بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔ آمدن کے نئے راستے بھی گنوائے گئے ہیں: نشریات، ڈیجیٹل مواد، اشتہارات، ٹکٹیں اور گراس روٹ پروگرام۔
اصل امتحان اعلان کے بعد شروع ہوتا ہے
پاکستان ہاکی کا ماضی سونے سے لکھا گیا ہے؛ اولمپک اور ورلڈ کپ ٹائٹل اس کھیل کی پہچان رہے ہیں۔ فیڈریشن خود کہتی ہے کہ چیلنج یہی ہے کہ اس تاریخ کو صرف یادوں کی زینت نہ رہنے دیا جائے بلکہ ایک جدید اور پائیدار ڈھانچے کی بنیاد بنایا جائے۔ ٹیموں کے نام، مالکان اور میچوں کا شیڈول ابھی آنا باقی ہے — اور یہی وہ تفصیلات ہیں جن سے معلوم ہوگا کہ یہ آغاز ایک نئے دور کا نقطہ آغاز ہے یا ایک اور اعلان۔



