پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی توثیق کر دی، ایمرجنسی کی قرارداد 240 ووٹوں کے مقابلے میں 46 سے منظور، اپوزیشن کا احتجاج

اسلام آباد میں جمعرات کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا اور ایوان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی توثیق کر دی۔ یہ اجلاس صدر آصف علی زرداری نے طلب کیا تھا اور اس کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کی۔ ایک روز پہلے قومی اسمبلی اور سینیٹ الگ الگ اجلاسوں میں صوبے میں ایمرجنسی کی منظوری دے چکے تھے، اس لیے آج کا مرحلہ اس پورے آئینی عمل کی آخری بڑی کڑی سمجھا جا رہا تھا۔
ایمرجنسی والی قرارداد 240 ووٹوں کے ساتھ منظور ہوئی، مخالفت میں 46 ووٹ پڑے۔ اجلاس کے آغاز پر وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بعض ذیلی قواعد معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جو 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے دو قراردادیں ایوان کے سامنے رکھیں، ایک آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کی اور دوسری آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی۔
اپوزیشن ارکان پلے کارڈز اٹھائے ایوان میں آئے اور نعرے لگاتے رہے۔ ان کے بینرز پر ایمرجنسی نامنظور جیسے نعرے درج تھے۔ شور شرابے کے باوجود کارروائی جاری رہی اور اسپیکر نے گنتی کے ذریعے ووٹنگ مکمل کرائی۔
آگے کیا ہوگا؟
گورنر راج کا اعلان دو ماہ میں ختم ہو جاتا ہے، البتہ مشترکہ اجلاس کی منظوری کے بعد اسے بڑھایا جا سکتا ہے، تاہم مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ وفاقی حکومت 11 اکتوبر کو یہ قدم اٹھاتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لاتعلق ہو گئی تھی، اسی لیے مداخلت ناگزیر ہو گئی۔ اپوزیشن اس مؤقف کو ماننے سے انکار کرتی ہے اور اس فیصلے کو صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتی ہے۔



