اسلامی نظریاتی کونسل کی خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی وراثتی ٹریبونل قائم کرنے کی سفارش، مذہبی چینلز کو باقاعدہ لائسنس دینے کا بھی مطالبہ

اسلام آباد میں جمعرات کو اسلامی نظریاتی کونسل کا 247 واں اجلاس ہوا تو ایجنڈے پر سب سے نمایاں معاملہ خواتین کی وراثت کا تھا۔ چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی صدارت میں ہونے والے اجلاس نے سفارش کی کہ خواتین کے جائیداد اور وراثتی مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے خصوصی وراثتی ٹریبونل قائم کیے جائیں۔ یہ سفارش وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے تناظر میں کی گئی، کیونکہ عملی صورتحال یہ ہے کہ وراثت کے مقدمات برسوں عدالتوں میں لٹکے رہتے ہیں اور سب سے زیادہ نقصان انہی خواتین کو اٹھانا پڑتا ہے جن کا حصہ شریعت اور قانون دونوں میں واضح ہے۔
اجلاس میں کون کون شریک ہوا
اجلاس میں علامہ طاہر محمود اشرفی، ڈاکٹر انتخاب احمد نوری، پیر شمس الرحمن، رانا شفیق خان پسروری، صاحبزادہ حافظ محمد امجد، سید عتیق الرحمن بخاری، علامہ یوسف اعوان اور علامہ افتخار حسین نقوی شریک ہوئے، جبکہ سید سعید الحسن اور ڈاکٹر عزیر محمود الازہری نے آن لائن شرکت کی۔ شرکا نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ نابالغ بچوں اور بیویوں کے گزشتہ عرصے کے نان نفقے کے حقوق ختم نہیں ہوتے۔ کونسل نے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے پیش کردہ مسلم عائلی قوانین (والد کا نفقہ) ترمیمی بل 2026 کی بعض ترامیم کے ساتھ حمایت بھی کی۔
مذہبی چینلز اور دیگر فیصلے
کونسل نے سفارش کی کہ مذہبی ٹی وی چینلز کو صرف این او سی دینے پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ دیگر چینلز کی طرح انہیں باقاعدہ لائسنس جاری کیے جائیں اور اس کے لیے قوانین و قواعد میں ضروری ترمیم لائی جائے۔ اجلاس میں محرم الحرام کے دوران استعمال ہونے والے جھنڈوں اور بینرز کے احترام سے متعلق رنگ ٹونز کی منظوری بھی دی گئی، اور توہینِ رسالت کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی تائید کی گئی۔
ملکی اور علاقائی صورتحال پر تشویش
اجلاس نے ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور ملک میں جاری دہشت گردی پر تشویش ظاہر کی اور سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی۔ آبنائے ہرمز کی بندش اور باب المندب میں حوثیوں کی مداخلت سے جہاز رانی کو پیش آنے والی مشکلات بھی زیر بحث آئیں، جبکہ کھلے سمندر میں صومالی قزاقوں کے حملے میں تین پاکستانیوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔



