جمعرات, 15 اکتوبر 2026
جمعرات, 15 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
اسلامی نظریاتی کونسل کی خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے خصوصی وراثتی ٹریبونل قائم کرنے کی سفارش، مذہبی چینلز کو باقاعدہ لائسنس دینے کا بھی مطالبہ• لاہور میں صبح سویرے بارش سے موسم خوشگوار، ہوا بھی صاف ہو گئی، پنجاب کے کئی اضلاع میں آج رات مزید بارش کی پیشگوئی• پنجاب کے بلدیاتی انتخابات پر الیکشن کمیشن کا دو ٹوک فیصلہ: اپریل تک تاخیر کی تجویز مسترد، شیڈول فوری جاری کرنے کی ہدایت• گھر پر چکن کڑاہی بنانے کا اصل طریقہ، بغیر پیاز کے ٹماٹر ادرک کی چٹپٹی گریوی والی• کوریائی سائنس فکشن تھرلر فلم ’ہوپ‘ 23 اکتوبر کو پاکستان کے سینماؤں میں ریلیز ہوگی، اسکوئڈ گیم کی اداکارہ بھی کاسٹ میں شامل• گھر پر ہوٹل جیسی بیف نہاری بنانے کا آسان طریقہ، دھیمی آنچ پر پکی ہوئی نرم بوٹی اور گاڑھی گریوی• جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی غزہ میں لاشیں گنی جا رہی ہیں، جنگ بندی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے بڑھ گئی• مکہ مکرمہ میں موسلا دھار بارش، عمرہ زائرین بارش میں بھی خانہ کعبہ کا طواف کرتے رہے، محکمہ موسمیات نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا•
مضامین

پنجاب کے بلدیاتی انتخابات پر الیکشن کمیشن کا دو ٹوک فیصلہ: اپریل تک تاخیر کی تجویز مسترد، شیڈول فوری جاری کرنے کی ہدایت

News Cuff

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ برسوں سے فائلوں میں اٹکا ہوا تھا، مگر جمعرات کو الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا کہ اب مزید انتظار نہیں ہوگا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس میں کمیشن نے صوبائی حکومت کی وہ تجویز مسترد کر دی جس میں انتخابات اپریل 2027 تک ملتوی کرنے کی بات کی گئی تھی، اور اپنے دفاتر کو ہدایت کی کہ پنجاب کے انتخابی پروگرام کا مسودہ منظوری کے لیے فوراً پیش کیا جائے۔

صوبائی حکومت کیا چاہتی تھی

یہ معاملہ یوں کھلا کہ کمیشن نے 2 اکتوبر کو صوبائی حکومت کو خط لکھ کر مسودہ انتخابی پروگرام بھیجا تھا، جس میں پولنگ کے لیے 14 دسمبر کی تاریخ تجویز کی گئی تھی۔ صوبائی حکومت نے 14 اکتوبر کو جواب بھجوایا تو موقف یہ تھا کہ دسمبر اور جنوری میں اسموگ، گھنی دھند اور سخت سردی ہوگی اور فروری میں رمضان شروع ہو جائے گا، اس لیے انتخابات اپریل میں تین مرحلوں، 4، 11 اور 18 اپریل کو کرائے جائیں۔ کمیشن نے اس جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ اس کی دلیل سیدھی سی تھی: انتخابات ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت صوبے سے مشاورت 20 اگست کو ہی مکمل ہو چکی تھی اور اسی مشاورت میں صوبائی حکومت 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان انتخابات پر راضی ہوئی تھی۔ اب وہی حکومت اپنا ہی طے شدہ شیڈول بدلنا چاہتی ہے۔

افسران کی فہرستوں پر بھی ناراضی

اجلاس میں اس بات پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا گیا کہ کمیشن کی درخواست کے باوجود صوبائی حکومت نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کی تقرری کے لیے افسران کی فہرستیں اب تک نہیں بھجوائیں۔ صوبے کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ فہرستیں ایک ہفتے کے اندر فراہم کی جائیں تاکہ انتخابی عمل آگے بڑھ سکے۔ کنٹونمنٹ علاقوں کے بارے میں بھی کمیشن نے یہی راستہ اپنایا ہے: انتخابی پروگرام منظوری کے لیے فوراً پیش کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ کنٹونمنٹ انتخابات کے لیے وفاقی حکومت کی باقاعدہ درخواست درکار ہوتی ہے؛ کمیشن کے مطابق وزارت دفاع کو کئی یاددہانی خطوط بھیجے گئے اور چیف الیکشن کمشنر وزیراعظم کو بھی لکھ چکے ہیں، مگر تسلی بخش جواب نہیں آیا۔

اس فیصلے کا مطلب کیا ہے

پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور یہاں آخری بلدیاتی انتخابات 2015 میں ہوئے تھے؛ منتخب بلدیاتی اداروں کی مدت 2021 میں ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے گلی محلے کے مسائل، صفائی، پانی اور مقامی ترقی جیسے معاملات منتخب نمائندوں کے بغیر چل رہے ہیں۔ آئین مقامی حکومتوں کے قیام کا تقاضا کرتا ہے، اور کمیشن بار بار یہی نکتہ دہرا رہا ہے۔ صوبائی حکومت کی موسمی وجوہات اپنی جگہ، مگر کمیشن کا تازہ فیصلہ بتاتا ہے کہ اب یہ بحث دلائل سے آگے بڑھ کر شیڈول کی طرف جا رہی ہے۔ حتمی تاریخیں انتخابی پروگرام کی منظوری کے بعد سامنے آئیں گی، اور اصل امتحان یہ ہوگا کہ صوبائی انتظامیہ افسران کی فہرستوں سمیت عملی تعاون کتنی جلدی کرتی ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے