سندھ اور ہواوے کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو گئے، صوبے کو پاکستان کا پہلا اے آئی نیٹو ڈیجیٹل صوبہ بنانے کا منصوبہ، کراچی ایجوکیشن سٹی میں تحقیقی مراکز کی دعوت

شنگھائی میں جمعے کو سندھ حکومت اور چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہو گئے۔ اسی معاہدے کے تحت سندھ کو پاکستان کا پہلا اے آئی نیٹو ڈیجیٹل صوبہ بنانے پر کام ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہواوے کے ليانچيو لیک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں سیمی کنڈکٹر چپس، فائیو جی اور سکس جی، مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر جاری تحقیق سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اب سمت صرف ٹیکنالوجی خریدنے کی نہیں، اسے مل کر بنانے کی ہے۔
صرف خریداری نہیں، شراکت داری
مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سندھ ہواوے سے صرف آلات نہیں لینا چاہتا۔ ان کی تجویز ہے کہ تعاون مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی تک جائے، تاکہ مہارت بھی یہیں پیدا ہو۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے ہواوے کو کراچی ایجوکیشن سٹی میں تحقیقی و ترقیاتی مراکز اور ٹیکنالوجی لیبارٹریاں قائم کرنے کی دعوت دی اور کراچی اور شنگھائی کو جڑواں شہر قرار دینے کی تجویز بھی سامنے رکھی۔
ای پورٹل سے ڈیٹا سینٹر تک
صوبائی حکومت اپنے ای پورٹل اور ڈیجیٹل تبدیلی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن کے لیے کلاؤڈ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز، ڈیزاسٹر ریکوری اور سائبر سکیورٹی میں ہواوے کا تعاون مانگا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے لیے کمپیوٹنگ ڈھانچہ بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے کے نوجوان آئی ٹی ماہرین کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جامعات اور تکنیکی اداروں کے ساتھ پائلٹ منصوبے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع کھول سکتے ہیں اور ڈیجیٹل عوامی خدمات بہتر ہو سکتی ہیں۔ دستخط تو ہو گئے؛ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ منصوبے کاغذ سے نکل کر دفتروں اور شہروں میں کب نظر آتے ہیں۔



