جمعہ, 23 اکتوبر 2026
جمعہ, 23 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
مضامین

وانی اور سوارہ جیسی فرسودہ رسومات: قوانین موجود ہیں، عملدرآمد کہاں ہے؟

News Cuff

ڈان میں شائع ہونے والے ایک تازہ مضمون نے پاکستان کی ان رسومات کو ایک بار پھر موضوعِ بحث بنایا ہے جنہیں ملک کے لیے قومی رکاوٹ قرار دیا جانا چاہیے — ونی اور سوارہ، جن کے تحت خونی جھگڑوں کے تصفیے کے لیے معصوم لڑکیاں یا خواتین دے دی جاتی ہیں، اور قرآنِ مجید سے «نکاح» کی وہ روایت جسے مذہب کی آڑ میں زندہ رکھا گیا ہے۔

مضمون نگار، جو تعلیم کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ ان رسومات پر پابندی کے قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد «کمزور اور غیر مستقل» ہے — بعض علاقوں میں تو نام کی حد تک۔ ان کا استدلال ہے کہ خواتین کے لیے وراثت کا حصہ ان کی مالی سلامتی کا سب سے مؤثر راستہ ہے، اور لڑکیوں کی تعلیم کو دینی فریضے کے طور پر ہر پلیٹ فارم سے اجاگر کرنا ہوگا۔

قانون کہاں کھڑا ہے
درحقیقت پاکستان کے پاس ان رسومات کے خلاف قانونی فریم ورک موجود ہے: 2004 میں ونی پر پابندی، اور انسدادِ خواتین کے خلاف رسومات کا قانون 2011 — جبکہ گھگ جیسی رسم کو خیبر پختونخوا میں 2013 کے قانون کے تحت جرم قرار دیا گیا۔

عدالتِ عظمیٰ کا حالیہ فیصلہ
اسی سلسلے میں عدالتِ عظمیٰ کا حالیہ فیصلہ بھی اہم ہے۔ جسٹس ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نو صفحات کے فیصلے میں واضح کیا کہ عورت کا «انکار» اشتعال نہیں ہوتا، بلکہ انکار صورتحال کو مزید سنگین بناتا ہے۔ عدالت نے گھگ، سوارہ اور ونی سمیت متعدد قبائلی رسومات کی مذمت کی اور محمد کامران کی نظرثانی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مسماۃ میمونہ شاہین کے قتل پر اس کی سزائے موت برقرار رکھی — کامران نے رشتے کے انکار پر یہ قتل کیا تھا۔

اصل سوال یہ ہے کہ قانون کی موجودگی کے باوجود یہ رسومات قبائلی ثقافتوں میں کیوں زندہ ہیں۔ جواب سادہ ہے: قانون کتابوں میں ہے، جبکہ رسومات لوگوں کی ذہنیت میں۔ جب تک وراثت، تعلیم اور خواتین کی مالی خودمختاری کو معاشرے کی سطح پر یقینی نہیں بنایا جاتا، قوانین صرف کاغذ پر رہیں گے۔

اس تحریر کا نتیجہ یہ ہے کہ تبدیلی کا راستہ صرف سزا نہیں — وہ تعلیم، آگاہی اور معاشی بااختیاری کے راستے سے گزرتا ہے۔ جب ایک لڑکی پڑھے گی، کمائے گی اور اپنے حصے کی وراثت پائے گی، تب ہی سوارہ جیسی رسومات کا خاتمہ ممکن ہوگا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے