الیکشن کمیشن نے انتخابات میں اے آئی کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے ڈیپ فیک مواد اور جعلی ٹرینڈز پر پابندی کی تجویز دے دی

فائل فوٹو: اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی عمارت — Wikimedia Commons (وائس آف امریکہ، پبلک ڈومین)
تجویز: سیاسی جماعتوں، میڈیا اداروں اور انتخابی مبصرین کے ضابطہ اخلاق میں ترامیم کا مسودہ
آرا کی آخری تاریخ: 20 نومبر 2026 تک الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد کو
مقصد: جعلی ویڈیوز، مصنوعی آوازوں اور جعلی آن لائن حمایت سے ووٹروں کو دھوکا دینے کا راستہ بند کرنا
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک ایسا مسودہ جاری کیا ہے جو آنے والے انتخابات کی مہم کا انداز بدل سکتا ہے۔ سیاسی جماعتوں، میڈیا اداروں اور انتخابی مبصرین کے ضابطہ اخلاق میں مجوزہ ترامیم کا مقصد مصنوعی ذہانت سے بنی جعلی ویڈیوز، آوازوں اور تصاویر کے ذریعے ووٹروں کو دھوکا دینے کا راستہ بند کرنا ہے۔ مسودہ کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کر دیا گیا ہے اور متعلقہ فریق 20 نومبر 2026 تک اپنی آرا الیکشن کمیشن سیکریٹریٹ اسلام آباد کو بھجوا سکتے ہیں۔
جماعتوں کے لیے کیا ممنوع ہوگا
مجوزہ قواعد کے تحت سیاسی جماعتیں، امیدوار، انتخابی ایجنٹ اور ان کے حامی ایسا اے آئی یا ترمیم شدہ مواد نہیں بنا سکیں گے جس سے ووٹر کو اس کی اصلیت کے بارے میں دھوکا ہو یا کسی شخص کے الفاظ، عمل یا شکل کو غلط انداز میں پیش کیا جائے۔ اے آئی سے بنا یا نمایاں طور پر بدلا گیا انتخابی مواد واضح لیبل کے ساتھ جاری کرنا ہوگا اور ڈیپ فیک تصاویر، ویڈیوز، آڈیو کلپس اور مصنوعی آوازیں سب اس پابندی کی زد میں آئیں گی۔
رہنماؤں، امیدواروں، انتخابی عہدیداروں، عدلیہ، مسلح افواج اور دیگر ریاستی عہدیداروں کی جھوٹی، توہین آمیز یا تضحیک آمیز ڈیپ فیک تصاویر، آوازیں یا بیانات بنانا سختی سے ممنوع ہوگا۔ اے آئی بوٹس اور خودکار اکاؤنٹس سے جعلی ٹرینڈز، لائکس، تبصرے، شیئرز اور فالوورز بنا کر عوامی حمایت کا غلط تاثر دینا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ روبو کالز یا وائس کلوننگ سے ووٹروں سے رابطے کے آغاز میں ہی بتانا ہوگا کہ پیغام اے آئی سے بنا ہے اور جماعتوں کو انتخابی مدت کا تمام اے آئی مواد محفوظ رکھنا ہوگا تاکہ مانگنے پر کمیشن کو مکمل تفصیل دی جا سکے۔
میڈیا اور مبصرین پر کیا ذمہ داری ہوگی
مسودہ میڈیا اداروں کو بھی اسی دائرے میں لاتا ہے۔ اے آئی سے بنا یا بدلا گیا مواد نشر، شائع یا جاری کرتے وقت واضح طور پر بتانا ہوگا کہ وہ اے آئی سے بنا یا اس میں ترمیم کی گئی ہے۔ تیاری، ترجمے، پیشکش یا تجزیے کے لیے اے آئی کا استعمال جائز رہے گا بشرطیکہ ناظرین کو بتایا جائے اور مواد کی درستگی کی ذمہ داری ادارے پر رہے۔ پیمرا، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی بغیر لیبل والے مواد کی نگرانی کریں گے اور خلاف ورزی کمیشن کو رپورٹ کی جائے گی۔
انتخابی مبصرین کو اے آئی سے بنی یا بدلی گئی معلومات پر نظر رکھنا ہوگی اور ایسا مواد دیکھتے ہی بغیر آگے پھیلائے کمیشن کو رپورٹ کرنا ہوگی۔ وہ اپنی رپورٹوں، مشاہدات، تصاویر یا ویڈیوز میں اے آئی سے تبدیلی یا اضافہ نہیں کر سکیں گے بلکہ ان کی رپورٹ میں وہی ہونا چاہیے جو انہوں نے خود دیکھا اور سنا۔
کمیشن کا موقف
کمیشن کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت انتخابات کا ایماندارانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد اس کی ذمہ داری ہے اور گمراہ کن اے آئی مواد سے انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کو روکنا اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ اے آئی اب انتخابی مہم کا حصہ بن چکی ہے اور کمیشن کے نزدیک اس کے استعمال کے واضح اصول طے کیے بغیر ووٹر کے اعتماد کا تحفظ ممکن نہیں۔ اب سب کی نظریں 20 نومبر کی آخری تاریخ پر ہیں جس کے بعد یہ تجاویز حتمی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔



