جمعہ, 30 اکتوبر 2026
جمعہ, 30 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا حکم دے دیا، 12 اضلاع مستثنیٰ قرار

News Cuff

اسلام آباد — الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات فوری طور پر کرانے کا حکم دے دیا ہے، تاہم ایمرجنسی اقدامات کی زد میں آنے والے 12 اضلاع کو اس مرحلے سے باہر رکھا گیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے بدھ کو محفوظ فیصلہ سنایا، جس کے بعد صوبے میں مدتوں سے معطل بلدیاتی نظام کی بحالی کا راستہ کھل گیا ہے۔

محفوظ فیصلہ، واضح ہدایات

کمیشن نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جن اضلاع میں حلقہ بندی کا عمل مکمل ہو چکا ہے، وہاں انتخابی پروگرام منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ جن اضلاع میں حلقہ بندی ابھی ادھوری ہے، وہاں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ فیصلہ منگل کو ہونے والی سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا تھا، جس میں صوبائی حکومت نے امن و امان کی صورتحال، ایمرجنسی کے نفاذ اور فوج کی تعیناتی کا حوالہ دے کر انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ کمیشن کو بتایا گیا کہ 23 اضلاع میں حلقہ بندی مکمل ہو چکی ہے اور وہاں انتخابات کا حکم جاری کیا جا سکتا ہے۔

12 اضلاع کیوں باہر؟

وفاقی حکومت کے 11 اکتوبر کے حکم کے تحت پانچ اضلاع — بنوں، مہمند، اورکزئی، لکی مروت اور شمالی وزیرستان — میں انتخابی پروگرام ترتیب نہیں دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، باجوڑ، خیبر، کرم، زیریں جنوبی وزیرستان اور بالائی جنوبی وزیرستان کو حلقہ بندی کے شیڈول سے بھی باہر رکھا گیا ہے۔ یہ 12 اضلاع ان خصوصی انتظامی انتظامات کے تحت آتے ہیں جو ایمرجنسی کے دوران ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔ کمیشن نے کرک، ہنگو، سوات، بار سوات، بٹگرام، پہاڑپور اور الائی کی تحصیل کونسلوں میں ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں کی تعداد اور مخصوص نشستوں کی کیٹیگری وار تقسیم موجودہ ریونیو حدود کے مطابق درست کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

پس منظر: معطل بلدیاتی نظام

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام اس وقت سے غیر فعال ہے جب مقامی نمائندوں کی مدت ختم ہوئی — پہلے مرحلے میں منتخب نمائندوں کی مدت مارچ 2026 میں اور دوسرے مرحلے والوں کی جون 2026 میں ختم ہو گئی تھی۔ اس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے بلدیاتی قوانین میں ترامیم اور انتظامی مسائل نے حلقہ بندی کا عمل بھی متاثر کیا۔ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر کے گورنر راج لگا دیا، جس کی وجہ صوبائی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف جنگ سے "جان بوجھ کر لاتعلقی” قرار دی گئی۔ اب کمیشن کا یہ فیصلہ ان اضلاع میں جمہوری عمل کی واپسی کا پہلا ٹھوس قدم ہے جہاں حلقہ بندی مکمل ہے، جبکہ 12 اضلاع کے لیے فیصلہ ان کے خصوصی انتظامات ختم ہونے سے مشروط رہے گا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے