جمعہ, 30 اکتوبر 2026
جمعہ, 30 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
ٹیکنالوجی

ڈارک ویب کی نگرانی میں ایک سال کے دوران 326 سائبر خطرات سامنے آئے: پی ٹی اے کی سالانہ رپورٹ

News Cuff

Faisal Mosque, Islamabad. (Photo: Ali Mujtaba / Wikimedia Commons)

Faisal Mosque in Islamabad at sunset — file photo of the city named in the story فائل فوٹو: اسلام آباد میں فیصل مسجد کا ایک منظر

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈارک ویب کی نگرانی کے دوران ایک سال میں 326 اہم سائبر خطرات کی نشاندہی کی گئی۔ یہ نگرانی پی ٹی اے کے نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن سیکیورٹی آپریشنز سینٹر (این ٹی ایس او سی) نے جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران کی، جس میں ڈارک ویب فورمز، غیر قانونی آن لائن بازاروں اور کھلے ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کا جائزہ لیا گیا۔

سب سے بڑا خطرہ کیا نکلا؟

رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ واقعات ویب سائٹس کی شکل بگاڑنے کے تھے — 174 واقعات، یعنی کل خطرات کا 53 فیصد۔ اس کے بعد ڈیٹا لیک کے 87 واقعات (27 فیصد) سامنے آئے، جن میں اداروں اور صارفین کی حساس معلومات اور لاگ ان کی تفصیلات بے نقاب ہوئیں۔ تقسیم شدہ سروس سے انکار (ڈی ڈاس) کے 41 خطرات (13 فیصد) بھی ریکارڈ کیے گئے، جو آن لائن نظاموں کو مفلوج کرنے کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ باقی 24 کیسز، یعنی سات فیصد، حساس معلومات کی تشہیر یا فروخت سے متعلق تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2025 میں بلاک کرنے کے لیے نشاندہی کیے گئے یو آر ایلز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تعداد میں اچانک تیزی آئی، پھر اگلے مہینوں میں اس میں کمی ہوئی۔

شہریوں کو روز کیا سامنا ہے؟

اسی روز اسلام آباد میں سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمان نے کہا کہ پاکستان مسلسل سائبر حملوں کی زد میں ہے، اور ہزاروں جعلی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق آج تقریباً ہر شہری کو دھوکہ دہی پر مبنی کالیں اور ون ٹائم پاس ورڈ کے جعلی پیغامات موصول ہو رہے ہیں، جبکہ مختلف اداروں کو مسلسل جعلی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کا شعبہ خود بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں، اور ان کیسز پر وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کام کر رہا ہے، جبکہ پی ٹی اے، نادرا اور پیمرا اپنے نظاموں کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کی شہریوں سے اپیل تھی کہ کوئی بھی غیر مصدقہ پیغام آگے نہ بڑھائیں، کیونکہ اس سے غلط معلومات بھی پھیلتی ہیں اور دوسرے لوگ بھی خطرے میں پڑتے ہیں۔

آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟

اسی تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اعلان کیا کہ ایک سے دو ہفتوں کے اندر ایک باقاعدہ اور بااختیار نیشنل سائبر سیکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل قائم کی جائے گی۔ ان کی تجویز کے مطابق اس کونسل میں وفاقی وزارتیں، تمام صوبائی حکومتیں، پی ٹی اے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) شامل ہوں گے، اور اس کی قیادت پی ٹی اے کرے گی۔ وزیر کا کہنا تھا کہ آگاہی کا کام صرف ایک ہفتے کی مہم تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ سال کے 365 دن جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے ڈیجیٹل لٹریسی کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نصاب کا لازمی حصہ بنانے، تمام تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل لٹریسی سیل قائم کرنے، اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی لیبلنگ کو قانونی فریم ورک کے ذریعے لازمی قرار دینے کی تجویز بھی دی، تاکہ صارف کو معلوم ہو کہ کون سا مواد اے آئی سے بنا ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے