منگل, 27 اکتوبر 2026
منگل, 27 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
اسلام آباد ہائی کورٹ کا پی ٹی اے، پیمرا اور این سی سی آئی اے کو آن لائن ہراسانی کے قوانین پر عملدرآمد کی رپورٹ دینے کا حکم• منیبہ علی پاکستان ویمن ٹیم کی کپتان مقرر، ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کے لیے 14 رکنی اسکواڈ کا اعلان• الیکشن کمیشن نے انتخابات میں اے آئی کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے ڈیپ فیک مواد اور جعلی ٹرینڈز پر پابندی کی تجویز دے دی• قومی اسمبلی میں ایل پی جی بحران پر بحث — وزیر پٹرولیم نے ایران بارڈر کی بندش کو مہنگائی کی بڑی وجہ قرار دیا، سمندری راستے سے درآمد کا اعلان• یوم سیاہ کشمیر: صدر اور وزیراعظم کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ناممکن• پیٹرول 1.54 روپے اور ڈیزل 2.16 روپے فی لیٹر مہنگا — نئے نرخ آج سے نافذ• پاکستان میں سفر مئی سے ستمبر تک 7.9 فیصد سستا، فی کلومیٹر اوسط لاگت 9 روپے 65 پیسے رہ گئی• حافظ نعیم الرحمن کی وارننگ: پیٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ ہوگا•
ٹیکنالوجی

اسلام آباد ہائی کورٹ کا پی ٹی اے، پیمرا اور این سی سی آئی اے کو آن لائن ہراسانی کے قوانین پر عملدرآمد کی رپورٹ دینے کا حکم

News Cuff

File photo: social media app icons on a smartphone screen (mikemacmarketing, Wikimedia Commons, CC BY 2.0). The photo shows the platforms whose content enforcement the court order concerns; it is not a photo of the court.

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر روکنے کے قوانین پر عملدرآمد کی جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل سنگل بنچ نے ڈاکٹر رعنا احسن کی درخواست پر عبوری حکم جاری کرتے ہوئے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو رپورٹیں داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت 23 نومبر 2026 کو مقرر کی ہے۔

عدالت نے کیا کہا
عدالت نے قرار دیا کہ درخواست عوامی اہمیت کے اہم سوالات اٹھاتی ہے، جن میں آن لائن تحفظ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل اور نشریاتی میڈیا کا غلط استعمال، موجودہ ریگولیٹری نظام کی موثریت اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ شامل ہے۔ حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ ہدایات قانون پر عملدرآمد کو موثر بنانے کے لیے ہیں، کسی ادارے سے اس کے قانونی دائرے سے باہر جا کر کام کرنے یا طریقہ کار کی ضمانتوں کو نظر انداز کرنے کا نہیں کہا گیا۔

پی ٹی اے کے اپنے اعداد کیا بتاتے ہیں
حکم کے ساتھ منسلک پی ٹی اے کی رپورٹ بتاتی ہے کہ غیر قانونی مواد ہٹانے کی درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح ہر زمرے میں مختلف ہے۔ قومی سلامتی و دفاع سے متعلق مواد پر 59.01 فیصد، دہشت گردی سے متعلق پر 79.51 فیصد، توہین عدالت پر 76.28 فیصد، اسلام کی شان کے خلاف مواد پر 76.54 فیصد، ہتک عزت یا روپ دھارنے پر صرف 40.38 فیصد، شائستگی و اخلاقیات پر 98.91 فیصد اور فرقہ وارانہ یا نفرت انگیز تقاریر پر 67.43 فیصد درخواستیں پوری ہوئیں۔ ایک اخبار نے آخری زمرے کی شرح 64.43 فیصد لکھی ہے، یہ فرق ابھی عوامی طور پر واضح نہیں ہوا۔

پلیٹ فارمز کا رویہ
پلیٹ فارم کے لحاظ سے ایکس پر عملدرآمد صرف 48.42 فیصد رہا، جبکہ فیس بک پر 78.57 فیصد، انسٹاگرام پر 79.52 فیصد، یوٹیوب پر 87.34 فیصد اور ٹک ٹاک پر 88.68 فیصد درخواستیں مانی گئیں۔ پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ اکتوبر 2021 میں قواعد کے نوٹیفکیشن کے بعد سے سوشل میڈیا کمپنیوں سے رجسٹریشن اور مقامی شکایتی افسران کی تقرری کا کہا جا رہا ہے، مگر اب تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس عملی طور پر صرف پلیٹ فارمز سے درخواست کرنے یا تکنیکی اقدامات کا راستہ رہ گیا ہے، اور کمپنیاں اکثر اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کا حوالہ دے کر انکار کر دیتی ہیں۔

اب آگے کیا ہوگا
عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، پیمرا، پی ٹی اے، این سی سی آئی اے اور دیگر متعلقہ وزارتوں کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے، تاکہ رابطے کی خامیوں کی نشاندہی ہو، ہر ادارے کی قانونی ذمہ داری واضح ہو اور موثر نفاذ کا مشترکہ طریقہ کار بنے۔ اس اجلاس کی مشترکہ رپورٹ اور عملدرآمد کا ٹائم ٹیبل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے