حافظ آباد میں بس نالے میں جاگری، 5 مسافر جاں بحق اور 27 زخمی

File photo: A passenger bus in Lahore — not the bus involved in the crash.
پنجاب کے ضلع حافظ آباد میں جمعرات کی صبح ایک مسافر بس نالے میں جاگری، جس سے 5 افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہو گئے۔ حادثہ تحصیل پنڈی بھٹیاں کے علاقے فتحکے میں پیش آیا، جہاں چنیوٹ جانے والی بس ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو کر قریبی نالے میں گر گئی۔
صبح سویرے کیا ہوا؟
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ریسکیو 1122 کو حادثے کی اطلاع صبح 4 بج کر 20 منٹ پر ملی، جس کے بعد پنڈی بھٹیاں سے ایمبولینس، موٹر سائیکل ریسکیو اور فائر سروس کی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ ڈان کے مطابق بس تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوئی، جبکہ عینی شاہدین نے ریسکیو حکام کو بتایا کہ ڈرائیور یو ٹرن لیتے ہوئے اونگھ گیا تھا۔ ریسکیو ٹیموں نے موقع پر ہی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی، اور 20 زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال پنڈی بھٹیاں منتقل کیا گیا۔ مقامی انتظامیہ کی مدد سے کرین کے ذریعے الٹی ہوئی بس کو نالے سے اٹھایا گیا، تو اس کے نیچے سے 5 لاشیں برآمد ہوئیں، جنہیں بھی اسی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، اور اس کی نگرانی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسر انجینئر عبدالرشید نے کی۔
جاں بحق ہونے والے کون تھے؟
ریسکیو 1122 کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں 18 سالہ احمد ولد عبدالرؤف، 20 سالہ عادل ولد ارشد، 26 سالہ مذاکر مبین ولد نثار احمد، 27 سالہ ارسلان فاروق ولد فاروق اور 28 سالہ محمد علی ولد صاحب خان شامل ہیں۔ پانچوں کی عمریں 18 سے 28 سال کے درمیان تھیں — یعنی یہ سب نوجوان مسافر تھے، جو صبح سویرے اپنے سفر پر نکلے تھے اور گھر واپس نہ لوٹ سکے۔
ایک ہفتے میں تیسرا بڑا بس حادثہ
یہ حادثہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں بس حادثات کی ایک افسوسناک لہر چل رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر زیرو پوائنٹ کے قریب ایک منی بس اور مسافر کوچ کے تصادم میں 12 افراد جاں بحق اور دو درجن سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس سے چند روز پہلے، 21 اکتوبر کو راجن پور کی تحصیل روجھان میں انڈس ہائی وے پر ایک بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی تھی، جس میں 10 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہوئے تھے۔ جون 2026 میں لاہور کے دھرم پورہ چوبچہ پھاٹک کے قریب بھی ایک تیز رفتار وین نہر میں گر گئی تھی، جس میں سات افراد زخمی ہوئے۔ بار بار ہونے والے یہ حادثات ایک ہی سوال اٹھاتے ہیں: تیز رفتاری اور ڈرائیوروں کی تھکاوٹ پر قابو پائے بغیر پنجاب کی سڑکوں پر سفر کب محفوظ ہو گا؟



