اسلام آباد کلین ایئر کمپیکٹ منظور: فضائی آلودگی کے خلاف وفاق اور صوبوں کا مشترکہ لائحہ عمل طے

Faisal Mosque, Islamabad. (Photo: Ali Mujtaba / Wikimedia Commons)
اسلام آباد میں دو روزہ پاکستان نیشنل کلین ایئر کانفرنس کے اختتام پر اسلام آباد کلین ایئر کمپیکٹ منظور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت وفاق اور صوبے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور مربوط اقدامات پر متفق ہو گئے ہیں۔ اس معاہدے میں سخت نفاذ، باقاعدہ اخراجی فہرستوں کی تیاری اور سالانہ جائزہ اجلاسوں کا وعدہ شامل ہے۔
کانفرنس 28 اور 29 اکتوبر کو پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) نے ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے منعقد کی۔ اس میں وفاقی و صوبائی حکام، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ماحولیاتی ایجنسیوں اور عالمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ٹرانسپورٹ، صنعت، فصلوں کی باقیات جلانے، گھریلو ایندھن اور کچرے سے پیدا ہونے والی آلودگی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔
سرمائی سموگ سے پہلے تیاری پر زور
پاک ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید ابرار حسین نے کہا کہ آلودگی کے خلاف مربوط حکمت عملی، سرمائی سموگ کے موسم سے پہلے پیشگی تیاری اور نگرانی کے مضبوط نظام کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب معاملہ صرف پالیسی سازی کا نہیں رہا، بلکہ اس پر عمل درآمد کا ہے، اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کے بغیر صاف ہوا کا ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔
مالیاتی فریم ورک اور قومی پالیسی پر عمل
ایشیائی ترقیاتی بینک کے اینڈریو میکارتھی نے وفاق اور صوبوں کی ذمہ داریوں کے تعین پر اتفاق رائے اور نیشنل کلین ایئر فنانسنگ فریم ورک کے قیام کی تجویز دی، تاکہ عوامی فنڈز، ماحولیاتی مالیات، ترقیاتی امداد اور نجی سرمایہ کاری کو ایک جگہ لایا جا سکے۔ پاک ای پی اے کے ترجمان ڈاکٹر ضیغم عباس نے ترقیاتی شراکت داروں سے قومی کلین ایئر پالیسی 2023 پر ٹیکنالوجی کی مدد سے عمل درآمد کی اپیل کی، تاکہ آلودگی کو اس کے ماخذ پر ہی روکا جا سکے۔
اسی کانفرنس میں دس ملین ڈالر فنڈ کا اعلان
اسی کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے فضائی آلودگی کے حل پر کام کرنے والے اسٹارٹ اپس کے لیے دس ملین ڈالر کے فنڈ کا اعلان بھی کیا تھا۔ ان کے مطابق فضائی آلودگی ملک کی مجموعی پیداوار کا تقریباً ساڑھے چھ فیصد نگل رہی ہے، اور اس کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور کمزور طبقوں پر پڑتا ہے، جو ایئر پیوریفائر جیسی سہولتیں برداشت نہیں کر سکتے۔ کانفرنس کے دنوں میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں سرفہرست بھی رہا، جس نے اس معاہدے کی فوری ضرورت کو اور نمایاں کر دیا۔



