اسرائیل کے حتمی انتخابی نتائج: نیتن یاہو بلاک 53 نشستوں کے ساتھ آگے مگر اکثریت سے محروم، حکومت سازی کا تعطل برقرار

File photograph of the Knesset building in Jerusalem — not a scene from the vote count.
یروشلم — اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن نے عام انتخابات کی حتمی گنتی جاری کر دی ہے، اور نتیجہ کسی ایک کیمپ کے حق میں فیصلہ کن نہیں نکلا۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا بلاک 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ضرور ہے، مگر حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے وہ اب بھی 8 نشستیں پیچھے ہے۔ اب سب کی نظریں ان مذاکرات پر ہیں جو ہفتوں چل سکتے ہیں — اور اگر کوئی فارمولا نہ بنا تو ایک اور انتخاب بھی خارج از امکان نہیں۔
اعداد کیا کہتے ہیں
نیتن یاہو کی جماعت لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت بنی ہے۔ ان کے بلاک میں دائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں، جن کی مجموعی تعداد 53 بنتی ہے۔ دوسری طرف سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن بلاک نے 48 نشستیں حاصل کیں — ان کی جماعت یشار 21 اور سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی بیخد 12 نشستوں پر رہی۔ اپوزیشن بھی اکثریت سے 13 نشستیں دور ہے، اس لیے دونوں بڑے کیمپوں کو اپنے بلاک سے باہر سہارا ڈھونڈنا ہوگا۔
عرب جماعتیں فیصلہ کن مقام پر
اس انتخاب کی سب سے نمایاں کہانی عرب قیادت والی جماعتوں کی کارکردگی ہے۔ جوائنٹ لسٹ نے 11 اور راعم نے 8 نشستیں جیتیں، یعنی مجموعی طور پر 19 نشستیں — ان جماعتوں کے لیے یہ ایک ریکارڈ مجموعہ بتایا جا رہا ہے، اور اس کے پیچھے عرب شہریوں کی ریکارڈ شرکت کا ہاتھ ہے۔ اعداد کی زبان میں معاملہ سیدھا ہے: 53 جمع 48 جمع 19 برابر 120۔ جس کیمپ کو بھی عرب جماعتوں کی حمایت یا کم از کم ان کی خاموش رضامندی نہ ملی، اس کے لیے 61 کا ہندسہ پورا کرنا تقریباً ناممکن ہوگا، حالانکہ دونوں بڑے بلاکوں نے ماضی میں ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد سے گریز کیا ہے۔
اب آگے کیا ہوگا
ووٹنگ میں شرکت تقریباً 78 فیصد رہی، جو 2022 کے مقابلے میں واضح طور پر زیادہ ہے۔ گنتی مکمل ہو چکی ہے، مگر نتائج کی باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے — توقع ہے کہ 4 نومبر کو باضابطہ نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کو پیش کیے جائیں گے، جس کے بعد وہ پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کر کے اس امیدوار کو حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیں گے جس کے امکانات سب سے زیادہ ہوں۔ نئی کنیسٹ کی حلف برداری 10 نومبر کو طے ہے۔ ہفتے کو ہی سیاسی سرگرمی تیز رہی: نیتن یاہو نے اپنے اتحادی رہنماؤں ایتمار بین گویر اور بتسلل سموٹرچ سے ملاقات کی، اپوزیشن رہنماؤں نے اتحادی امکانات پر بات چیت کی، اور وزیراعظم کے براہ راست انتخاب کی ایک پرانی تجویز بھی دوبارہ زیر بحث آئی۔ ایک بات اور یاد رکھنے کی ہے: سبکدوش پارلیمان میں نیتن یاہو بلاک عروج کے وقت 68 نشستوں تک پہنچا تھا — اس لحاظ سے 53 نشستیں ان کے لیے ایک واضح پسپائی ہے۔



