پیر, 2 نومبر 2026
پیر, 2 نومبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

اکتوبر میں دہشت گرد حملوں میں 37 فیصد کمی، مگر اغوا کی وارداتیں ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

News Cuff

فرنٹیئر کور کا دستہ مارچ کرتا ہوا، فائل فوٹو (2016 کی پریڈ کی تصویر، اکتوبر کے کسی واقعے کی نہیں)

اسلام آباد — ملک میں دہشت گردی کے اعداد و شمار نے اکتوبر میں واضح بہتری دکھائی ہے، مگر اسی رپورٹ میں ایک خطرناک رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد کے تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پکس) کی اتوار کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2026 میں ملک بھر میں 143 دہشت گرد حملے ہوئے، جبکہ ستمبر میں یہ تعداد 226 تھی — یعنی ایک ماہ میں 37 فیصد کمی۔

حملوں میں کمی کے ساتھ جانی نقصان بھی تیزی سے گھٹا۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں حملوں کے نتیجے میں 111 افراد جان سے گئے، جبکہ ستمبر میں 260 ہلاکتیں ہوئی تھیں — 57 فیصد کمی۔ زخمیوں کی تعداد 242 سے کم ہو کر 69 رہ گئی، جو 71 فیصد کی کمی ہے۔ پکس کا کہنا ہے کہ اس بہتری نے گزشتہ دو ماہ سے جاری تشدد میں اضافے کے رجحان کو پلٹ دیا ہے۔

بلوچستان میں بہتری سب سے نمایاں رہی

بلوچستان میں حملے 132 سے گھٹ کر 71 رہ گئے، یعنی 46 فیصد کمی۔ خیبر پختونخوا کے مرکزی اضلاع میں بھی صورتحال بہتر ہوئی، جہاں سابق فاٹا کے علاقوں کو چھوڑ کر حملوں کی تعداد 58 سے کم ہو کر 40 رہ گئی — 31 فیصد کمی۔ خودکش حملوں میں بھی نمایاں کمی آئی؛ اکتوبر میں صرف ایک خودکش حملہ ریکارڈ ہوا، جبکہ ستمبر میں تین ہوئے تھے۔

اغوا میں تشویشناک اضافہ

لیکن رپورٹ کا دوسرا رخ پریشان کن ہے۔ اکتوبر میں دہشت گردی سے جڑی وارداتوں میں 88 افراد کو اغوا کیا گیا، جو ستمبر کے 72 کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے — اور گزشتہ بارہ ماہ کی بلند ترین سطح۔ ان اغوا کی وارداتوں میں سے تقریباً چار میں سے تین کا تعلق بلوچستان سے تھا، جہاں اغوا اب بھی سنگین سیکیورٹی چیلنج بنا ہوا ہے۔

مجموعی اعداد و شمار

حملوں اور سیکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو ملا کر اکتوبر میں مجموعی طور پر 272 افراد ہلاک ہوئے — ان میں 53 سیکیورٹی اہلکار، 45 شہری، امن کمیٹیوں کے 5 ارکان اور 169 دہشت گرد شامل ہیں — جبکہ 71 افراد زخمی ہوئے۔

سال کی مجموعی تصویر اب بھی سنگین ہے۔ پکس کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2026 تک ملک میں 1,376 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں سیکیورٹی کارروائیوں سمیت مجموعی طور پر 3,902 اموات ہوئیں — ان میں 645 سیکیورٹی اہلکار، 65 امن کمیٹی ارکان، 595 شہری اور 2,597 دہشت گرد شامل ہیں۔ اکتوبر کی بہتری اس لیے اہم ہے، مگر سال بھر کے اعداد بتاتے ہیں کہ چیلنج ابھی ختم نہیں ہوا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے