بھارت سے تجارت بند ہونے سے پاکستان کو 40 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا، کاروباری کونسل

واہگہ اٹاری سرحد پر ہجوم — پاک بھارت تجارت اسی گزرگاہ سے ہوتی تھی (فائل فوٹو: وکیمیڈیا کامنز / شولر 1000، جون 2019)
لاہور: بھارت کے ساتھ تجارت کی معطلی پاکستان کی معیشت کو اب تک تقریباً 40 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ یہ دعویٰ پاک بھارت بزنس کونسل کے چیئرمین نور محمد قصوری نے پیر کو ایک بیان میں کیا، جس میں انہوں نے دونوں پڑوسی ملکوں سے تجارتی تعلقات بحال کرنے کی اپیل بھی کی۔
قصوری کے مطابق تجارت 2019 میں پلوامہ حملے اور اس کے بعد کشیدگی کے باعث بند ہوئی تھی، اور اس کے بعد سے پاکستانی کاروباروں کو ضروری خام مال اور دیگر اشیا دور دراز ملکوں سے منگوانا پڑ رہی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کرایہ اور ترسیل کے اخراجات بڑھ گئے اور سامان کی فراہمی میں تاخیر معمول بن گئی۔
سب سے زیادہ نقصان کسے ہوا؟
سب سے زیادہ چوٹ دوا سازی کی صنعت کو لگی۔ قصوری نے بتایا کہ پاکستانی دوا ساز کمپنیاں خام مال کے لیے بھارت پر انحصار کرتی تھیں، اور اگر درآمدات بحال ہو جائیں تو اس شعبے کو سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف ٹیکسٹائل سیکٹر کو ملکی کپاس کی پیداوار میں کمی کے بعد برازیل، مصر، چین اور امریکہ سے کپاس منگوانا پڑی، جس پر تقریباً 5 ارب ڈالر کا اضافی خرچ آیا۔
اس کے علاوہ چینی، کھاد، سیمنٹ، پٹرولیم مصنوعات، لوہا و فولاد، سبزیاں اور بھاری مشینری بھی دور کی منڈیوں سے درآمد کرنا پڑیں، حالانکہ بھارت میں ان اشیا کی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ قصوری نے نشاندہی کی کہ بھارتی آئل ریفائنریز جغرافیائی طور پر پاکستان کے زیادہ قریب ہیں، اس لیے وہاں سے پٹرولیم کی درآمد سستی اور تیز تر ہو سکتی ہے۔
بحالی سے کیا ملے گا؟
کاروباری کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ تجارتی تعلقات کی بحالی سے دونوں ملکوں کے کاروباروں کو فائدہ ہو گا، سرمایہ کاری اور سیاحت کے مواقع پیدا ہوں گے اور علاقائی تعاون مضبوط ہو گا۔ انہوں نے علاقائی تعاون کی مثال کے طور پر بھارت کی جانب سے معاشی بحران کے دوران سری لنکا کو دی گئی مالی مدد کا حوالہ بھی دیا۔
قصوری کے بقول تجارت کی بحالی سے ترسیل کے اخراجات کم ہوں گے اور سامان بروقت مل سکے گا — وہ دو فائدے جن کی پاکستانی صنعت کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے۔



