لاہور کے آس پاس ایک ہفتے میں 3,712 مقامات پر آگ لگی، شہر آج بھی دنیا کا آلودہ ترین

فائل فوٹو: لاہور قلعے سے دھند میں ڈوبی بادشاہی مسجد (وکیمیڈیا کامنز، CC BY-SA 4.0) — یہ آج کی تصویر نہیں۔
لاہور کی فضا پر سموگ کا قبضہ بدستور قائم ہے، اور اب سیٹلائٹ ڈیٹا نے اس کی ایک بڑی وجہ بھی سامنے رکھ دی ہے۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے تازہ تجزیے کے مطابق لاہور کے 300 کلومیٹر کے دائرے میں صرف ایک ہفتے کے دوران آگ کے 3,712 مقامات نظر آئے — جن میں سے 2,753 پاکستان میں اور 957 بھارت میں تھے۔ جمعرات کو شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس 360 رہا، اور لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار پایا۔
آگ کہاں لگی؟
یہ اعداد 27 اکتوبر سے 2 نومبر کے درمیان ناسا کے فائر انفارمیشن سسٹم سے لیے گئے ہیں۔ پاکستان میں آگ کے مقامات گزشتہ سال کی اسی مدت کے 2,390 کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ رہے، اور آٹھ سالہ اوسط 1,824 سے 51 فیصد اوپر۔ اس کے برعکس بھارت میں صرف 957 مقامات ریکارڈ ہوئے، جو اس کے آٹھ سالہ اوسط 10,448 سے کہیں کم ہیں۔ دونوں ملکوں کو ملا کر اس ہفتے کا مجموعی عدد 3,712 رہا، جبکہ 2020 میں یہ 21,157 اور 2018 میں 19,674 تھا۔ تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اکتوبر کے دوسرے نصف میں جیسے جیسے آگ بڑھی، لاہور میں باریک ذرات پی ایم 2.5 کی روزانہ اوسط بھی تقریباً 220 سے بڑھ کر 285 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک جا پہنچی۔
آج کی صورتحال
جمعرات کی صبح شہر کے مختلف علاقوں میں انڈیکس خطرناک درجے تک پہنچا ہوا تھا۔ ملتان روڈ اور سفاری پارک میں یہ 500 سے اوپر چلا گیا، کہنہ میں 498، ڈی ایچ اے فیز 6 میں 428، برکی میں 407، شاہدرہ میں 359، جی ٹی روڈ پر 311، ایگرٹن روڈ پر 297، پنجاب یونیورسٹی میں 281، گلبرگ میں 255 اور واہگہ بارڈر پر 209 ریکارڈ ہوا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31 اور کم سے کم 17 ڈگری سینٹی گریڈ رہا، اگلے 24 گھنٹوں میں بارش کا کوئی امکان نہیں، ہوا صرف 3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے اور نمی 80 فیصد ہے۔ پیر 2 نومبر کو انڈیکس 530 سے اوپر جا چکا تھا، آج کا 360 اس سے کم ہے، مگر عالمی درجہ بندی میں لاہور پھر بھی سب سے اوپر ہے۔
صرف فصل کی آگ ذمہ دار نہیں
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سیٹلائٹ پر نظر آنے والی ہر آگ کو فصل کی باقیات جلانا قرار نہیں دیا جا سکتا — یہ صرف حرارت یا آگ کی نشاندہی کرتا ہے، اس کے پیچھے سرگرمی یا دھوئیں کی مقدار نہیں بتاتا۔ ہر نشاندہی تقریباً 375 میٹر کے علاقے کی ہوتی ہے، اور بادل چھائے ہوں تو سیٹلائٹ کچھ آگوں کو دیکھ ہی نہیں پاتا۔ ہوا کے رخ کا جائزہ لینے کے لیے امریکی ادارے نوآ کے ہائسپلٹ ماڈل سے 500 میٹر کی بلندی پر گزشتہ 72 گھنٹوں کی ہوا کا سراغ لگایا گیا، جس سے پتا چلا کہ لاہور تک پہنچنے والی ہوا افغانستان اور بھارت کی طرف سے آئی۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ امرتسر اور اٹاری سے آنے والی ہوائیں بھی لاہور کی آلودگی میں حصہ ڈالتی ہیں، مگر ماڈلنگ صرف ہوا کی ممکنہ سمت بتاتی ہے، آلودگی کا ذریعہ خود ثابت نہیں کرتی۔ ماحولیاتی ویب سائٹ ہماری ہوا کے مطابق گزشتہ سات دنوں میں فیصل آباد کے 250 کلومیٹر کے دائرے میں 10,494، لاہور کے گرد 10,115، سرگودھا کے گرد 9,537 اور گوجرانوالہ کے گرد 8,836 مقامات پر آگ دیکھی گئی۔ محکمہ صحت کی ہدایت ہے کہ دمے کے مریض اور حاملہ خواتین جہاں تک ممکن ہو گھر کے اندر رہیں اور باہر نکلتے وقت ماسک پہنیں۔



