انگور اڈہ: افغان طالبان کی شہری آبادی پر فائرنگ، ایک شہری شہید، پانچ زخمی؛ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں متعدد چوکیاں تباہ

Photo: the Torkham border crossing (file photo — not a picture of Friday evening's incident)
وانا: جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں منگل کی رات افغان طالبان کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا تو ایک گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے ایک شہری شہید اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے فوری اور موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ کر دیں۔
شہری آبادی پر گولہ باری
ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر کے مطابق افغان طالبان نے انگور اڈہ بازار اور قریبی رہائشی علاقوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔ ایک مارٹر گولہ ایک گھر پر آ گرا، جس سے ایک شہری جان سے گیا اور اسی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔ کئی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ خیبر پختونخوا کی مشیر اطلاعات سمر ہارون بلور نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ افغان طالبان نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا، جس پر علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
فوری جوابی کارروائی
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے حملے کا فوری جواب دیا۔ چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں اور توپ خانے سے افغان طالبان کی متعدد چوکیوں، مارٹر پوزیشنوں اور دفاعی مورچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شدید اور درست جوابی کارروائی کے بعد افغان جنگجو اپنی چوکیاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پاک فوج سرحد پر ہائی الرٹ ہے اور ذرائع کے مطابق شہریوں پر حملے کا جواب ابھی جاری ہے۔
پرانا زخم، نیا واقعہ
انگور اڈہ میں سرحد پار سے فائرنگ کوئی نئی بات نہیں۔ اسی سال اپریل کے آخر میں بھی مارٹر گولہ باری سے شہری زخمی ہوئے اور گھروں کو نقصان پہنچا تھا۔ فروری میں آپریشن غضب للحق کے بعد سے سرحدی کشیدگی وقفے وقفے سے جاری ہے۔ اسلام آباد بار بار کابل سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے؛ طالبان حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ ایک روز پہلے پاکستان نے طالبان کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا تھا کہ پاکستانی کارروائیوں میں شہری مارے گئے۔



