سعودی فضائی دفاع نے حوثیوں کے تین میزائل اور چار ڈرون مار گرائے، مشرقی علاقے اور الخرج میں خطرے کا الرٹ ختم

File photo: Riyadh's skyline (Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0, B.alotaby, February 2018). The photo shows the Saudi capital, not the 27 October interceptions.
سعودی عرب کے فضائی دفاع نے منگل کی صبح یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل اور چار ڈرون مار گرائے۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے دونوں کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تین میزائل مشرقی علاقے کی طرف آ رہے تھے جبکہ چار ڈرون جنوبی علاقے کی طرف بھیجے گئے تھے، اور فضائی دفاع نے انہیں تباہ کر دیا۔
صبح سویرے الرٹ، پھر خطرہ ختم
میزائلوں اور ڈرونز کی آمد سے پہلے سعودی سول ڈیفنس نے قومی ابتدائی انتباہی پلیٹ فارم کے ذریعے مشرقی صوبے اور الخرج گورنریٹ کے رہائشیوں کو خبردار کیا تھا۔ لوگوں سے کہا گیا کہ وہ سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل کریں، متاثرہ مقامات پر جمع نہ ہوں اور فضائی دفاع کی کارروائیوں کی ویڈیوز نہ بنائیں نہ آگے پھیلائیں۔ کچھ دیر بعد سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ دونوں علاقوں میں خطرہ ختم ہو گیا ہے، تاہم شہریوں کو ہدایات پر عمل جاری رکھنے کی تاکید کی گئی۔ ایمرجنسی کی صورت میں متحدہ نمبر 911 پر رابطے کی ہدایت بھی دی گئی۔
کشیدگی کا پس منظر
یہ واقعہ اکتوبر میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے طے پانے والی جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے، اور سعودی حملوں میں اس وقت تیزی آئی جب حوثیوں نے گزشتہ ماہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کر کے باب المندب آبنائے کی طرف پیش قدمی کی — وہ گزرگاہ جہاں سے خلیجی تیل کی عالمی ترسیل ہوتی ہے۔ اسی پس منظر میں امریکی مشن نے 27 اکتوبر کو سیکیورٹی الرٹ جاری کیا، جس میں غیر ہنگامی سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے 23 اکتوبر کو سعودی عرب کے لیے لیول تھری ایڈوائزری بھی جاری کی تھی، جس میں امریکیوں کو سفر پر نظرثانی کا مشورہ دیا گیا تھا۔



