بالائی علاقوں میں برفباری اور میدانی شہروں میں بارش سے شامیں ٹھنڈی ہونے لگیں، گھر پر اصل کشمیری گلابی چائے بنانے کی آسان ترکیب

موسم نے کروٹ بدلنی شروع کر دی ہے۔ بالائی ہزارہ کی وادیوں میں برف پڑ گئی، میدانی شہروں میں بارش نے شامیں بھگو دیں، اور دکانوں پر چائے کے کھوکھے پھر سے آباد ہونے لگے۔ ایسے موسم میں جس مشروب کی سب سے پہلے یاد آتی ہے وہ کشمیری گلابی چائے ہے — دھیمی آنچ، الائچی کی خوشبو، اوپر کٹے ہوئے پستے بادام، اور وہ گلابی رنگ جو دیکھنے سے ہی ٹھنڈک اتار دے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اس رنگ کے پیچھے کوئی رنگ کاٹھ نہیں، صرف ایک چٹکی میٹھا سوڈا اور تھوڑا سا صبر ہے۔
اجزا
چار کپ کے لیے: پانی تین کپ، سبز چائے کی پتی دو کھانے کے چمچ، میٹھا سوڈا ایک چٹکی (چوتھائی چائے کے چمچ سے زیادہ ہرگز نہیں)، سبز الائچی چار سے پانچ دانے ہلکے کوٹے ہوئے، بادیان کا ایک پھول (اختیاری)، دودھ دو کپ، چینی یا نمک حسب ذائقہ — اصل نون چائے نمکین بنتی ہے، گھروں میں زیادہ تر میٹھی چلتی ہے — اور سجاوٹ کے لیے کٹا پستہ اور بادام ایک کھانے کا چمچ۔
ترکیب — رنگ بھی، ذائقہ بھی
پانی میں چائے کی پتی، الائچی اور بادیان ڈال کر ابال لیں۔ ابال آتے ہی میٹھا سوڈا شامل کریں اور چمچ چلاتے رہیں؛ قہوہ پہلے گہرا سرخ ہوگا، یہی اس ترکیب کا اصل لمحہ ہے۔ اب اس میں ایک کپ ٹھنڈا پانی اونچائی سے ڈالیں اور چائے کو کڑاہی میں خوب پھینٹیں یا ڈوئی سے اوپر نیچے کریں — ہوا لگنے سے رنگ اور جھاگ دونوں بنتے ہیں۔ پھر دودھ شامل کریں اور دھیمی آنچ پر پانچ سے سات منٹ پکائیں، یہاں تک کہ جانی پہچانی گلابی رنگت آ جائے۔ چینی یا نمک ملا کر کپوں میں انڈیلیں، اوپر پستہ بادام چھڑکیں۔
ایک چھوٹی سی بات ذہن میں رکھیں: سوڈا زیادہ ہو جائے تو ذائقہ کڑوا اور رنگ عجیب سا ہو جاتا ہے، اس لیے چٹکی سے آگے نہ بڑھیں۔ اور اگر پہلی بار میں رنگ ہلکا رہ جائے تو گھبرائیں نہیں — اگلی بار قہوے کو دو منٹ اور پھینٹ لیں، کشمیری چائے صبر والوں کا مشروب ہے۔



