پاکستان قرض دہندگان کے عالمی پلیٹ فارم کی صدارت سنبھال بیٹھا: یہ موقع ہے یا محض ایک اور خطاب؟ بینکاک سے اٹھنے والے سوالات کا جائزہ

بینکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پاکستان کو ایک ایسی ذمہ داری ملی ہے جو سننے میں سفارتی کامیابی لگتی ہے، مگر اس کا اصل وزن وقت بتائے گا۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی جانب سے قرض لینے والے ممالک کے پلیٹ فارم کی گورننگ کونسل کی صدارت قبول کر لی ہے۔ یہ پلیٹ فارم ترقی پذیر ممالک کو قرض کے انتظام، اصلاحات کے تجربات اور مالی وسائل کے نئے طریقوں پر ایک دوسرے سے سیکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
پہلے یہ بات واضح کر لیں کہ یہ پلیٹ فارم ہے کیا نہیں
اورنگزیب خود کہہ چکے ہیں کہ یہ فورم قرض دہندگان کے خلاف اجتماعی سودے بازی کا پلیٹ فارم نہیں ہے اور نہ ہی کسی بحران میں فوری مدد کا ذریعہ۔ یہ تکنیکی تعاون اور تجربات کے تبادلے کی جگہ ہے۔ مصر نے اس پلیٹ فارم کی بنیاد رکھنے میں قیادت کی تھی، اور اس کی پہلی گورننگ کونسل کا اجلاس بارہ اکتوبر کو بینکاک میں ہوا، جس میں ترقی پذیر ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنر شریک ہوئے۔
پاکستان نے اپنے لیے جو پیمانہ خود رکھا ہے
اسلام آباد نے 2026-27 کے لیے تین ترجیحات رکھی ہیں: قرض کے انتظام کو بہتر بنانا، اصلاحات کے تجربات بانٹنا، اور ترقیاتی مالیات کے نئے ذرائع تلاش کرنا۔ وزیر خزانہ کا جملہ اس پوری کوشش کا خلاصہ ہے کہ قرض ترقی کا ذریعہ بنے، رکاوٹ نہ بنے۔ بینکاک میں ہی ان کی آئی ایم ایف کے پہلے نائب منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کیٹز سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں عملے کی سطح کے معاہدے اور معاشی استحکام پر بات چیت ہوئی۔
اصل امتحان خطاب نہیں، نتیجہ ہے
تنقیدی نگاہ سے دیکھیں تو سوال سادہ ہے: جس ملک کا اپنا قرض کا بوجھ معیشت کے ستر فیصد کے آس پاس گھوم رہا ہو، وہ دوسروں کو قرض سنبھالنا کیا سکھائے گا؟ اس سوال کا جواب پاکستان کے مخالفین بھی دے رہے ہیں اور حامی بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حامی کہتے ہیں تجربہ تلخ ہو تب بھی تجربہ ہوتا ہے، اور پاکستان نے حالیہ برسوں میں استحکام کی جو مشق کی ہے وہی اس کی اہلیت ہے۔
ہمارا جائزہ یہ ہے کہ اس صدارت کی قدر اسی وقت ثابت ہوگی جب اس سے کوئی پیمائش کے قابل نتیجہ نکلے: قرض کے انتظام کا کوئی مشترکہ فریم ورک، موسمیاتی مالیات تک رسائی میں کوئی عملی پیش رفت، یا کم از کم ایسی تکنیکی مدد جو چھوٹے ممالک کے کام آئے۔ ورنہ یہ بھی ان خطابات کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو اجلاسوں میں ملتے ہیں اور پریس ریلیزوں میں رہ جاتے ہیں۔ اگلے ایک سال میں پلیٹ فارم کا کام ہی فیصلہ کرے گا کہ بینکاک کی یہ صدارت پاکستان کی معاشی سفارتکاری کا باب ہے یا محض ایک اور تصویر۔



