پشاور اسکول سانحہ: جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہو گئی، مالک کے بعد پرنسپل بھی زیر حراست، انکشاف ہوا کہ خستہ حال عمارت کا تکنیکی معائنہ کیے بغیر اسکول رجسٹر کر دیا گیا تھا

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 35 ہو گئی ہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں 33 لاشیں لائی گئیں جبکہ دو افراد نصیر اللہ بابر اسپتال منتقل کیے گئے تھے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے بیشتر کو علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے، تاہم سر کی شدید چوٹوں والے تین بچے اب بھی زیر علاج ہیں۔ تمام میتیں قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
مالک کے بعد پرنسپل بھی حراست میں
پولیس نے اسکول کے مالک کی گرفتاری کے بعد پرنسپل کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید احمد کا کہنا ہے کہ عمارت کی ساخت کمزور تھی اور کمزور ڈھانچے پر اضافی تعمیر کا بوجھ چھت کے وزن سے کہیں بڑھ گیا تھا، یہی اس سانحے کی بڑی وجہ بنی۔ ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر کے مطابق ملبہ مکمل صاف کر لیا گیا ہے اور جائے وقوعہ پر اب کوئی زخمی بچہ موجود نہیں۔
رجسٹریشن بغیر تکنیکی معائنے کے ملی تھی
اس سانحے کا سب سے تشویشناک پہلو تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔ یہ اسکول مارچ 2026 میں پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی سے رجسٹر ہوا تھا، مگر رجسٹریشن سے پہلے عمارت کا کوئی تکنیکی معائنہ ہوا ہی نہیں۔ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر جاوید اقبال نے خود تسلیم کیا ہے کہ ان کے پاس عمارتوں کے تکنیکی معائنے کے لیے کوئی ٹیم موجود نہیں اور رجسٹریشن کلاس رومز اور انتظامی شرائط پوری ہونے پر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق اتھارٹی خستہ حال عمارتوں پر جرمانہ تو عائد کر سکتی ہے مگر اسکول بند کرنے کا اختیار اس کے پاس نہیں۔ یہ انکشاف اب صوبے بھر کے نجی اسکولوں کی رجسٹریشن کے نظام پر بڑے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔



