پاکستان نے افغان طالبان کو خبردار کر دیا، اسحاق ڈار نے کہا افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کابل کو خود نتائج بھگتنا ہوں گے، ستمبر میں 12 سال میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوئے

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان طالبان حکومت کو واضح خبردار کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خلاف موثر کارروائی نہ کی گئی تو اس کے نتائج ایک دن خود کابل کو بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں پاکستان کے بدلتے ہوئے دہشت گردی کے منظرنامے پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ٹی ٹی پی سب سے بڑا خطرہ
اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گردی پورے خطے اور دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان ملکی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کے مطابق سرحد پار سے منصوبہ بندی کے تحت ہونے والے حملوں میں حالیہ مہینوں میں تیزی آئی ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہدایت پر دہشت گردوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر آپریشن جاری ہیں۔ انہوں نے جعفر ایکسپریس واقعے اور بلوچستان میں مزدوروں کے قتل جیسے واقعات کا بھی حوالہ دیا۔
ستمبر میں حملوں کا 12 سالہ ریکارڈ
کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے 225 حملے ریکارڈ ہوئے، جو اگست کے 199 حملوں کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ اور گزشتہ 12 سال میں کسی ایک مہینے کی سب سے بڑی تعداد ہے، جبکہ حملوں میں مسلسل تیسرے مہینے اضافہ ہوا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زیادہ جانیں قربان کر چکا ہے اور عالمی برادری کو ان قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔
دنیا سے کابل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ
نائب وزیراعظم نے شراکت دار ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان حکام پر اپنے وعدے پورے کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں اور کابل سے ٹی ٹی پی سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، قابل تصدیق اور ناقابل واپسی کارروائی کرائی جائے تاکہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ انہوں نے بھارت پر افغان سرزمین سے سرگرم گروہوں کی سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ محفوظ پناہ گاہیں آج پاکستان کے لیے خطرہ ہیں تو کل دوسرے ممالک کے لیے بھی بن سکتی ہیں۔



