ملک بھر میں جمعہ کو حوثی حملوں کے خلاف یومِ مذمت اور حرمین شریفین سے یکجہتی کے طور پر منایا گیا، خطبات میں امن و اتحاد کی خصوصی دعائیں

جمعہ کے اجتماعات آج ایک ہی پیغام کے گرد گھومتے رہے: حرمین شریفین کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ پاکستان علماء کونسل اور عالمی تعظیمِ حرمین شریفین کونسل کی اپیل پر ملک بھر میں یومِ مذمت منایا گیا، جس میں حوثی حملوں کی مذمت اور سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ یہ اپیل مدینہ منورہ کی سمت فائر کیے گئے کروز میزائل حملے کے بعد سامنے آئی تھی، جس پر دینی حلقوں میں شدید ردعمل آیا۔
کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ مدینہ جیسے مقدس شہر کی طرف میزائل داغنا پوری امت کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ علماء کے مشترکہ بیان میں ان اجتماعی فتووں کی توثیق کی گئی جن میں حرمین شریفین، عام شہریوں اور بے گناہ لوگوں پر حملوں کو حرام اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ مذمت کسی مکتبِ فکر کے خلاف نہیں، بلکہ دہشت گردی اور مقدس مقامات پر حملوں کے خلاف ایک دینی اور انسانی موقف ہے۔
خطبات میں حرمتِ حرمین کا پیغام
آج کے خطبات میں ائمہ اور خطباء نے حرمین شریفین کی حرمت، اللہ کے مہمانوں کے تحفظ اور امت کے اتحاد پر زور دیا۔ نمازِ جمعہ کے اجتماعات میں مذمتی قراردادیں منظور ہوئیں اور سعودی عرب، حرمین شریفین، پاکستان اور پوری امت کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ، او آئی سی اور عرب لیگ سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ محض مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر مؤثر اقدامات کریں، اور حوثیوں کو میزائل، ڈرون اور مالی مدد فراہم کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے۔



