اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج کراچی میں، شرح سود میں اضافے کا امکان

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) آج پیر کو کراچی میں اپنا اجلاس کر رہی ہے، جس میں ملک کی شرح سود کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ گورنر جمیل احمد اجلاس کی صدارت کریں گے اور فیصلے کا اعلان بعد میں مرکزی بینک کے ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔
اس وقت پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے۔ ستمبر کے اجلاس میں کمیٹی نے شرح سود برقرار رکھی تھی، اور اپریل کے بعد سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لیکن اس بار مارکیٹ کا جھکاؤ واضح طور پر اضافے کی طرف ہے۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے میں 61 فیصد شرکا نے شرح سود بڑھنے کی توقع ظاہر کی ہے، جن میں سے 54 فیصد کا کہنا ہے کہ اضافہ 50 بیسز پوائنٹس یعنی آدھا فیصد ہوگا، جس سے شرح 12 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ صرف 7 فیصد شرکا ایک پورے فیصد کے بڑے اضافے کی توقع رکھتے ہیں، جبکہ 39 فیصد کا خیال ہے کہ کمیٹی شرح برقرار رکھے گی۔
مہنگائی ہی اصل دباؤ ہے
اضافے کی دلیل کا مرکز مہنگائی ہے، جو اسٹیٹ بینک کے 5 سے 7 فیصد کے ہدف سے مسلسل اوپر چل رہی ہے۔ جولائی میں 9.2 فیصد رہنے والی سالانہ مہنگائی اگست میں 11.1 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور ستمبر میں 10.3 فیصد رہی۔ بنیادی مہنگائی بھی 8.7 فیصد کے آس پاس ہے، جو بتاتی ہے کہ قیمتوں کا دباؤ صرف چند اشیا تک محدود نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹیں اس دباؤ کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ برینٹ خام تیل تقریباً 100 ڈالر فی بیرل پر ہے، اور ستمبر میں اشیا کی درآمدات 6.17 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مہینوں کے اوسط سے کہیں زیادہ ہیں۔
دوسری طرف، شرح برقرار رکھنے کی دلیل بھی کمزور نہیں۔ روپیہ نسبتاً مستحکم ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے، اور معاشی سرگرمیوں میں بھی جان آئی ہے — 2026 کی تیسری سہ ماہی میں نمو 2.8 فیصد رہی، جبکہ دوسری سہ ماہی میں معیشت 0.6 فیصد سکڑ گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت سخت پالیسی کا بوجھ برداشت کر سکتی ہے، جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ ابھی انتظار بہتر ہوگا۔
فیصلے کا اثر کہاں پڑے گا؟
کمیٹی کا فیصلہ صرف بینکوں تک محدود نہیں رہے گا۔ شرح سود بڑھی تو کاروباری قرضے، گھریلو فنانسنگ اور حکومت کے قرض لینے کی لاگت سب متاثر ہوں گے، اور اس کا اثر آئندہ مہینوں میں قیمتوں اور کاروباری فیصلوں پر بھی نظر آئے گا۔ اگر شرح برقرار رہی تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ مرکزی بینک مہنگائی میں بتدریج کمی کی توقع پر قائم ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے فیصلے کے ساتھ مانیٹری پالیسی بیان بھی جاری کیا جائے گا، جس میں بتایا جائے گا کہ کمیٹی نے مہنگائی، نمو اور عالمی صورتحال کو کیسے تولا ہے۔ کاروباری حلقوں، بینکوں اور سرمایہ کاروں کی نظریں آج شام کے اعلان پر جمی ہیں۔



