اسلام آباد میں کل سے اقوام متحدہ پاکستان خلائی ٹیکنالوجی کانفرنس، 250 ملکی و غیر ملکی ماہرین شریک ہوں گے

Faisal Mosque, Islamabad. (Photo: Ali Mujtaba / Wikimedia Commons)
اسلام آباد: خلائی ٹیکنالوجی اب صرف راکٹ اور سیٹلائٹ کی کہانی نہیں رہی، یہ سیلاب سے پہلے کی وارننگ، خشک سالی کا اندازہ اور فصلوں کی نگرانی کا عملی ذریعہ بن چکی ہے۔ اسی موضوع پر پاکستان خلائی و بالائی فضائی تحقیقاتی کمیشن (سپارکو) کل، 27 اکتوبر سے اسلام آباد میں پانچ روزہ اقوام متحدہ پاکستان بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے، جو 31 اکتوبر تک جاری رہے گی۔
کانفرنس کا پورا نام "Leveraging Space Technology for Early Warning for All (EW4All), Climate Action and Disaster Risk Assessment” ہے، اور اس میں تقریباً 250 ملکی و غیر ملکی شرکاء کی شرکت متوقع ہے، جن میں 60 سے 70 بین الاقوامی مندوبین اور قریب 150 پاکستانی ماہرین شامل ہوں گے۔ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ہوں گے۔ کانفرنس کی مشترکہ سرپرستی اقوام متحدہ کے دفتر برائے خلائی امور (UNOOSA) کے پروگرام UN-SPIDER، ایشیا پیسیفک اسپیس کوآپریشن آرگنائزیشن (APSCO) اور انٹر اسلامک نیٹ ورک آن اسپیس سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (ISNET) کر رہے ہیں۔
سیٹلائٹ ڈیٹا سے وارننگ کیسے بہتر ہوگی؟
کانفرنس کا مرکزی سوال سیدھا ہے: جب سیٹلائٹ روزانہ زمین کی تصویر لے رہا ہے تو سیلاب، خشک سالی اور شدید گرمی کی خبر عام آدمی تک اتنی دیر سے کیوں پہنچتی ہے؟ ماہرین اس کا جواب سیٹلائٹ مشاہدات، ارتھ آبزرویشن اور جغرافیائی (جی آئی ایس) ڈیٹا کے عملی استعمال میں تلاش کریں گے — یعنی خطرے کی شناخت، اس کی نگرانی، بروقت انتباہ اور پھر تیاری، یہ چاروں مرحلے ایک نظام میں کیسے جڑیں۔ زیر بحث موضوعات میں پانی کے وسائل، زراعت، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی نگرانی بھی شامل ہے، اور اقوام متحدہ کے "Early Warnings for All” اقدام پر خاص توجہ ہوگی، جس کا ہدف 2027 کے آخر تک دنیا کے ہر شخص کو بروقت وارننگ کے نظام سے جوڑنا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ بحث محض علمی نہیں۔ گزشتہ برسوں میں سیلاب اور شدید موسم نے جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، اور منتظمین کا کہنا ہے کہ کانفرنس کا مقصد ملک میں فیصلہ سازی اور آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو خلائی معلومات کے عملی استعمال سے مضبوط کرنا ہے۔ اختتامی تقریب 31 اکتوبر کو ہوگی، جس کے بعد شرکاء کا ایک تکنیکی دورہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا بھی شیڈول ہے، تاکہ سیٹلائٹ ڈیٹا کا عملی استعمال قریب سے دیکھا جا سکے۔



