جمعہ, 30 اکتوبر 2026
جمعہ, 30 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی بیریئر کیس میں دس دس سال قید کی سزا

News Cuff

فائل فوٹو: راولپنڈی کا ایک منظر

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی بیریئر کیس میں دس دس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ جج طاہر عباس سپرا نے یہ فیصلہ جمعرات کو اڈیالہ جیل میں سنایا، جہاں اس مقدمے کی سماعت جیل ٹرائل کی صورت میں ہو رہی تھی۔

فیصلہ اڈیالہ جیل میں سنایا گیا

عدالت نے دونوں ملزمان کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دس سال قید اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی۔ اس کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 353 کے تحت دو سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ، اور دفعہ 186 کے تحت ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ بھی سنایا گیا۔ یوں ہر ملزم پر مجموعی جرمانہ دو لاکھ روپے بنتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی، اس لیے دونوں کو مجموعی طور پر دس دس سال قید کاٹنا ہوگی، اور زیر حراست گزارا گیا عرصہ بھی سزا میں شمار ہوگا۔

مقدمہ کیا تھا؟

یہ مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد کے آبپارہ تھانے میں درج ہوا تھا۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران راولپنڈی میں ٹیسٹ میچ کے موقع پر، زیرو پوائنٹ کے قریب لگائی گئی سیکیورٹی بیریئرز ہٹائی گئیں اور ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں سے مزاحمت کی گئی، جن میں تھپڑ مارنے اور دھاتی دستانے سے حملے کا الزام بھی شامل تھا۔ عدالت نے دونوں ملزمان پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی تھی۔ ٹرائل کے دوران استغاثہ نے سات گواہ پیش کیے، جبکہ سرکاری وکیل نے گواہوں پر جرح کی۔

دفاع کا موقف اور اپیل کا اعلان

ملزمان نے الزامات کو من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ ایمان مزاری نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ انسداد دہشت گردی عدالت میں اپنے موکل کی نمائندگی کے لیے جا رہی تھیں اور جلدی میں تھیں، جب سڑک کو کرکٹ ٹیم کی سیکیورٹی کے نام پر بند کر دیا گیا، حالانکہ ٹیم متبادل راستے سے اسٹیڈیم پہنچ چکی تھی اور سڑک کی بندش کا مجسٹریٹ کا کوئی تحریری حکم موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سادہ لباس اہلکار نے ان پر لوہے کی سلاخ پھینکی جس سے وہ زخمی ہوئیں، اور ان کے شوہر نے صرف ان کا دفاع کیا۔ فیصلے سے قبل دفاعی وکیل ایمل مندوخیل نے فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، کیونکہ ان کے مطابق سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں درخواستیں زیر التوا ہیں، جن میں مقدمے کی منتقلی کی درخواست بھی شامل ہے، تاہم عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ دفاع کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔ یہ فیصلہ سوشل میڈیا پوسٹوں والے مقدمے سے الگ ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے