اتوار, 1 نومبر 2026
اتوار, 1 نومبر 2026|
تازہ ترین
سفر

سوات میں موسم سرما کی سیاحت عروج پر، کالام اور مہوڈنڈ جھیل پر سیاحوں کی آمد سے مقامی روزگار کو فروغ

News Cuff

سوات میں کالام کے قریب مہوڈنڈ جھیل کی فائل تصویر

سوات: سردی کی پہلی ہوا کے ساتھ ہی سوات کی وادیوں میں رونق لوٹ آئی ہے۔ کالام، بحرین، مدین، مہوڈنڈ جھیل، اوشو ویلی، جاز بانڈہ اور مالم جبہ میں ہزاروں سیاح پہنچ رہے ہیں، اور پہاڑوں پر چھائی دھند کے بیچ سورج کی کرن نکلتے ہی منظر ایسا بن جاتا ہے کہ کیمرہ ہاتھ سے رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔

مقامی گائیڈ احتشام خان کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد جب قوس قزح پہاڑوں پر پھیلتی ہے تو سارا منظر چمک اٹھتا ہے۔ ان کی بات میں مبالغہ نہیں لگتا — کالام سے اوشو ویلی تک کے راستوں پر گھوڑوں کی ٹاپ کی آواز اب روز کا معمول بن گئی ہے، اور گھوڑے والے، جو زیادہ تر اسی کام پر گھر چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ اس موسم میں ان کا کام نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔

مہوڈنڈ جھیل اور مقامی فوٹوگرافروں کی بہار

مہوڈنڈ جھیل کی طرف جانے والا راستہ سیاحوں کی پہلی پسند بن گیا ہے۔ صاف پانی، رنگ برنگی کشتیاں اور چاروں طرف پھیلے جنگل اس جھیل کو سوات کی سب سے زیادہ تصویر کھنچوانے والی جگہ بنا دیتے ہیں۔ مقامی فوٹوگرافر شہریار خان کہتے ہیں کہ گزشتہ ہفتہ ان کے کیریئر کے مصروف ترین دنوں میں سے ایک تھا — لوگ ایسی تصویر چاہتے ہیں جو صرف ان کی ہو، جیسے بادلوں سے چھن کر آتی دھوپ یا قوس قزح کے بیچ گھوڑے کی تصویر۔

نوشہرہ سے آئے سیاح عمر خیام مہوڈنڈ جھیل پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے کہ کالام اور مالم جبہ رنگوں سے بھرے ہوئے ہیں، ہر طرف دیکھو تو تصویر بنانے کو دل کرتا ہے۔ پشاور کے واپڈا ٹاؤن سے اپنے خاندان کے ساتھ آئے قیصر خان نے کالام کی قدرتی خوبصورتی اور وہاں کی مشہور ٹراؤٹ مچھلی کا خاص ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات موٹروے کھلنے کے بعد پشاور اور اسلام آباد سے سفر بہت آسان ہو گیا ہے۔

ہوٹل بھر گئے، موسم سرما کی سرگرمیاں زوروں پر

کالام اور مالم جبہ کے ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں چھٹی والے دنوں میں کمرے ملنا مشکل ہو گیا ہے، کئی جگہیں تقریباً فل چل رہی ہیں۔ صرف نظارے ہی نہیں، مالم جبہ میں اسکیئنگ، کالام میں پیراگلائیڈنگ، مہوڈنڈ جھیل پر کشتی رانی، ہائیکنگ اور رافٹنگ بھی نوجوان سیاحوں کو کھینچ رہی ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس میں اپنا کردار خوب ادا کیا ہے — ہر سیاح اپنی تصاویر اور ویڈیوز فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر ڈالتا ہے، اور یوں سوات کی تشہیر خود بخود ہو جاتی ہے۔

محکمہ سیاحت کے نئے منصوبے

خیبر پختونخوا ٹورازم اینڈ کلچر اتھارٹی کے مطابق سیاحت کو صرف موسم تک محدود رکھنے کے بجائے سال بھر کا ذریعہ معاش بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کم خرچ رہائش کے لیے کیمپنگ پوڈز چترال کی بمبورٹ کالاش ویلی، بٹگرام کے شہید سر، بونیر کے مہبان اور مالکا میں قائم کیے جا چکے ہیں۔ مزید تقریباً دس مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سوات کے جاروگو آبشار، سولاتار اور کالام، چترال کے لشکرگاز اور بروغل، اپر دیر کا کمراٹ، شانگلہ کا الپوری، ہنگو کا سمانہ ٹاپ اور لوئر دیر کے لارم ٹاپ اور بن شاہی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ کاغان، چترال اور سوات میں تین نئی اسکی ریزورٹس اور کاغان میں دو جبکہ چترال اور ایبٹ آباد میں ایک ایک نئے ہل اسٹیشن کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاکہ کالام اور ناران جیسی معروف جگہوں پر دباؤ کم ہو۔ ناران اور کاغان میں ٹیولپ کی کاشت سے مقامی کاشتکاروں کی آمدنی کا نیا ذریعہ بننے کی امید ہے — ایک رپورٹ کے مطابق ایک کنال سے تقریباً ایک لاکھ روپے تک کمایا جا سکتا ہے — اور بٹاکنڈی-لالہ زار چیئر لفٹ کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

فی الحال، سوات کی کشش وہی پرانی سادہ جادوگری ہے: بارش کے بعد قوس قزح، بادلوں سے چھن کر آتی دھوپ، آبشار کی آواز اور مہوڈنڈ جھیل پر خاموش کشتی کا سفر۔ اور ہر تصویر کے پیچھے ایک مقامی کہانی ہے — پہاڑی راستے پر کھڑا گھوڑے والا، روشنی کا انتظار کرتا فوٹوگرافر، کمرہ تیار کرتا ہوٹل کا ملازم اور سڑک کنارے آخری گاہک کی امید میں بیٹھا دکاندار۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے