بائننس ہیک کے بعد مطالبہ: پاکستانی کرپٹو سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے متحدہ انڈسٹری باڈی بنائی جائے

File photo: Wikimedia Commons / Satheesh Sankaran (CC BY 2.0).
اسلام آباد سے ایک ایسا مطالبہ سامنے آیا ہے جو پاکستان کے کروڑوں کرپٹو صارفین سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ایشیا ویب 3 الائنس جاپان کی صدر ہنزہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل اثاثوں کے سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے ایک متحدہ انڈسٹری باڈی بنائی جائے، جو عالمی کرپٹو ایکسچینجز سے رابطے کا کام بھی سنبھالے۔ یہ مطالبہ حالیہ بائننس سائبر حملے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں اربوں ڈالر کے اثاثے متاثر ہوئے تھے۔
"اگر کوئی عالمی ایکسچینج بحران کا شکار ہو تو پاکستانی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کون کرے گا؟”
ہنزہ آصف نے اپنے بیان میں یہی سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں سرمایہ کاروں کی شکایات کو یکجا کرنے اور عالمی ایکسچینجز سے بات چیت کا کوئی منظم نظام موجود نہیں۔ کسی بڑی ایکسچینج پر سائبر حملہ ہو تو نقصان صرف مالی نہیں ہوتا — غیر مجاز لین دین، رقوم نکلوانے میں رکاوٹ اور اعتماد کا ٹوٹنا بھی اسی کا حصہ بن جاتا ہے۔ بائننس واقعے کا پاکستانی سرمایہ کاروں پر اصل اثر ابھی واضح نہیں، اور اس کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔
اعداد کتنے بڑے ہیں، اور کتنے پکے؟
چینالیسز کے 2025 کے گلوبل کرپٹو اڈاپشن انڈیکس میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ اندازوں کے مطابق کرپٹو سے منسلک اکاؤنٹس کی تعداد چار کروڑ کے قریب اور ان سے جڑی رقم دس سے بیس ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے — لیکن یہ اعداد سرکاری طور پر انفرادی سرمایہ کاروں کی تصدیق شدہ تعداد نہیں ہیں۔ آصف کے مطابق یہی خلا سب سے بڑا مسئلہ ہے: مارکیٹ اتنی بڑی ہو چکی ہے کہ اس کی نمائندگی کا کوئی ڈھانچہ ہی نہیں۔
ریگولیٹر کا کام الگ، انڈسٹری کی آواز الگ
آصف نے حکومت کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے، خاص طور پر پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پیوارا) کے قیام کا۔ ان کے مطابق ریگولیٹر اپنا قانونی کردار ادا کرے گا، جبکہ ایک آزاد انڈسٹری باڈی فن ٹیک کمپنیوں، بلاک چین کاروباروں، ٹیکنالوجی ماہرین اور سرمایہ کاروں کو پالیسی سازوں تک اپنی بات پہنچانے کا پلیٹ فارم دے گی۔ انہوں نے ایک قومی ڈیجیٹل فنانس پلیٹ فارم کی بھی تجویز دی ہے، جس میں قابل اعتماد مارکیٹ تحقیق، سرمایہ کاروں کی شکایات کا مربوط نظام، سائبر سکیورٹی آگاہی اور عالمی انڈسٹری تنظیموں کے ساتھ باضابطہ شراکت شامل ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ڈیجیٹل فنانس صلاحیت صرف کرپٹو ٹریڈنگ تک محدود نہیں — بلاک چین، ڈیجیٹل ادائیگیاں، فن ٹیک کاروبار اور عالمی سرمایہ کاری بھی اس کا حصہ ہیں۔

