اتوار, 8 نومبر 2026
اتوار, 8 نومبر 2026|
تازہ ترین
کالمز

دہشت گردی کا ماحولیاتی نظام: طالبان کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی کیسے مضبوط ہوئی؟

News Cuff

فائل فوٹو: مشرقی کابل کا منظر — یہ تصویر کسی عسکری سرگرمی کی نہیں، اس شہر کی ہے جس کے بارے میں دلیل دی گئی ہے۔

ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ نے ڈان میں اپنے کالم "Enabling terrorism” میں ایک سخت دلیل دی ہے: افغانستان میں دہشت گردی اب کوئی اتفاقی واردات نہیں، ایک خود کفیل نظام بن چکی ہے — ایسا نظام جو اپنے لیے پیسہ، ہتھیار اور پناہ گاہ خود پیدا کرتا ہے۔

دوحہ کے وعدے اور ان سے انحراف

جنجوعہ کے مطابق 2021 میں امریکی انخلا کے بعد طالبان نے دوحہ میں کیے گئے وعدوں سے انحراف کیا۔ تحریکِ طالبان پاکستان سمیت کئی گروہوں کو پناہ دی گئی، جیلوں میں بند شدت پسند رہا کر دیے گئے، اور منشیات، اسمگلنگ اور بھتہ خوری کی غیر قانونی معیشت نے اس نظام کو مالی بنیاد دے دی۔

اعداد جو دلیل کو وزن دیتے ہیں

کالم میں بیس سے زیادہ دہشت گرد تنظیموں کا ذکر ہے جو طالبان کی سرپرستی میں کام کر رہی ہیں، اور سات ارب بارہ کروڑ ڈالر کے امریکی اور نیٹو ہتھیاروں کا جو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے تک پہنچ رہے ہیں۔ جنجوعہ کے مطابق سگار اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی اس کی تصدیق کی ہے — پاکستانی فورسز نے 2025 تک دو سو ترانوے امریکی ساختہ ہتھیار برآمد کیے۔

دنیا کی توجہ کہیں اور

سب سے پریشان کن نکتہ یہ ہے کہ یہ نظام اب خطے سے باہر بھی پھیل رہا ہے، جبکہ دنیا کی توجہ یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ پر لگی ہوئی ہے۔ جنجوعہ کا انتباہ واضح ہے: جو نظام آج افغانستان میں پل رہا ہے، اس کی قیمت کل دنیا کو چکانا پڑ سکتی ہے۔

یہ تجزیہ ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ کے کالم "Enabling terrorism” (ڈان، 7 نومبر 2026) پر مبنی ہے۔

Source: https://www.dawn.com/news/2042775/enabling-terrorism

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے