بدھ, 14 اکتوبر 2026
بدھ, 14 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
پاکستان ہاکی لیگ کا اسلام آباد میں باضابطہ آغاز، پہلا سیزن 2027 میں ہوگا، چھ سے آٹھ فرنچائز ٹیمیں اور غیر ملکی کھلاڑی شامل ہوں گے• قومی اسمبلی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کر دی، قرارداد اکثریت سے منظور، بلاول نے مذاکرات کی پیشکش دہرا دی، گوہر نے فیصلہ مسترد کر دیا• سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کا اثر پاکستان تک پہنچ گیا: 24 گھنٹوں میں 114 پروازیں منسوخ، 77 تاخیر کا شکار، ریاض کی 28 پروازیں بھی نہ جا سکیں• پریذیڈنٹ ٹرافی: اسرار حسین کی پانچ وکٹوں نے کے آر ایل کو 129 پر ڈھیر کر دیا، پی ٹی وی کو 91 رنز کی سبقت، دوسری اننگز میں مجموعی برتری 135 ہو گئی• بالائی علاقوں میں برفباری اور میدانی شہروں میں بارش سے شامیں ٹھنڈی ہونے لگیں، گھر پر اصل کشمیری گلابی چائے بنانے کی آسان ترکیب• ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں بڑی پیش رفت: سہیل آفریدی سمیت پانچ افراد ضمنی چالان میں نامزد، فارنزک اور نادرا رپورٹس بنیاد بن گئیں، سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی• پاکستان قرض دہندگان کے عالمی پلیٹ فارم کی صدارت سنبھال بیٹھا: یہ موقع ہے یا محض ایک اور خطاب؟ بینکاک سے اٹھنے والے سوالات کا جائزہ• مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے پاکستانی عمرہ زائر باپ اور اس کے دو بیٹے سعودی عرب میں ٹریفک حادثے میں جاں بحق، میتیں وطن واپس لانے کی تیاریاں شروع•
سیاست

ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں بڑی پیش رفت: سہیل آفریدی سمیت پانچ افراد ضمنی چالان میں نامزد، فارنزک اور نادرا رپورٹس بنیاد بن گئیں، سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی

News Cuff

پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں چلنے والے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں منگل کو ایک نیا موڑ آ گیا۔ پولیس نے ضمنی چالان ضلعی سرکاری وکیل کے دفتر میں جمع کرا دیا ہے جس میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو باقاعدہ ملزم نامزد کر دیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ چار اور نام شامل ہیں — سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور محمد عامر۔

نامزدگی کی بنیاد کیا بنی؟

تفتیشی افسر کے مطابق یہ نام کسی نئے بیان پر نہیں آئے۔ معاملہ پرانی ویڈیوز کی جانچ سے آگے بڑھا۔ عدالت نے گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے وکیل شبیر حسین گگیانی کی درخواست پر ویڈیوز کی فارنزک جانچ اور نادرا سے چہرے کی شناخت کا حکم دیا تھا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ویڈیوز میں دکھائی دینے والے افراد کے چہرے کے خدوخال ان پانچوں سے ملتے ہیں، جبکہ نادرا نے بھی پروفائل تصویروں کو ممکنہ میچ قرار دیا۔ انہی دو رپورٹوں کو بنیاد بنا کر ضمنی چالان تیار کیا گیا اور ملزمان کی فہرست اسی کے ساتھ اسی سے اوپر چلی گئی۔

پی ٹی آئی کا مؤقف اور عدالت میں پہلے سے چلتا مقدمہ

پی ٹی آئی رہنماؤں نے ان ویڈیوز کی صداقت پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن کلپس کو بنیاد بنایا گیا ہے ان کا تعلق دس مئی 2023 کے حملے سے ثابت نہیں ہوتا۔ اصل مقدمہ پہلے ہی عدالت میں ہے — پچھتر ملزمان پر گزشتہ سال تین جون کو فرد جرم عائد ہوئی تھی اور سب نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔ یہ ایف آئی آر دس مئی 2023 کو تھانہ شرقی چھاؤنی میں اس وقت کے ایس ایچ او ارباب نعیم حیدر کی مدعیت میں درج ہوئی تھی، جس میں تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت اٹھائیس اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

یہ چالان ایسے وقت میں آیا ہے جب سہیل آفریدی پہلے ہی مشکل میں ہیں۔ گیارہ اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ان کی حکومت ختم ہوئی، وہ خود احتیاطی تحویل میں ہیں اور ایک روز پہلے ہی ان کے بھائی نے ان کی بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اب ان کے سامنے ایک اور عدالت، اور ایک اور مقدمہ ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے