ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں بڑی پیش رفت: سہیل آفریدی سمیت پانچ افراد ضمنی چالان میں نامزد، فارنزک اور نادرا رپورٹس بنیاد بن گئیں، سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی

پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں چلنے والے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں منگل کو ایک نیا موڑ آ گیا۔ پولیس نے ضمنی چالان ضلعی سرکاری وکیل کے دفتر میں جمع کرا دیا ہے جس میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو باقاعدہ ملزم نامزد کر دیا گیا ہے۔ ان کے ساتھ چار اور نام شامل ہیں — سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے صدر عرفان سلیم اور محمد عامر۔
نامزدگی کی بنیاد کیا بنی؟
تفتیشی افسر کے مطابق یہ نام کسی نئے بیان پر نہیں آئے۔ معاملہ پرانی ویڈیوز کی جانچ سے آگے بڑھا۔ عدالت نے گزشتہ سال دسمبر میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے وکیل شبیر حسین گگیانی کی درخواست پر ویڈیوز کی فارنزک جانچ اور نادرا سے چہرے کی شناخت کا حکم دیا تھا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ویڈیوز میں دکھائی دینے والے افراد کے چہرے کے خدوخال ان پانچوں سے ملتے ہیں، جبکہ نادرا نے بھی پروفائل تصویروں کو ممکنہ میچ قرار دیا۔ انہی دو رپورٹوں کو بنیاد بنا کر ضمنی چالان تیار کیا گیا اور ملزمان کی فہرست اسی کے ساتھ اسی سے اوپر چلی گئی۔
پی ٹی آئی کا مؤقف اور عدالت میں پہلے سے چلتا مقدمہ
پی ٹی آئی رہنماؤں نے ان ویڈیوز کی صداقت پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن کلپس کو بنیاد بنایا گیا ہے ان کا تعلق دس مئی 2023 کے حملے سے ثابت نہیں ہوتا۔ اصل مقدمہ پہلے ہی عدالت میں ہے — پچھتر ملزمان پر گزشتہ سال تین جون کو فرد جرم عائد ہوئی تھی اور سب نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔ یہ ایف آئی آر دس مئی 2023 کو تھانہ شرقی چھاؤنی میں اس وقت کے ایس ایچ او ارباب نعیم حیدر کی مدعیت میں درج ہوئی تھی، جس میں تعزیرات پاکستان اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعات شامل ہیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت اٹھائیس اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔
یہ چالان ایسے وقت میں آیا ہے جب سہیل آفریدی پہلے ہی مشکل میں ہیں۔ گیارہ اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ان کی حکومت ختم ہوئی، وہ خود احتیاطی تحویل میں ہیں اور ایک روز پہلے ہی ان کے بھائی نے ان کی بازیابی کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اب ان کے سامنے ایک اور عدالت، اور ایک اور مقدمہ ہے۔



