پاکستان نے بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے پہلی قومی حکمت عملی جاری کر دی، پانچ سالہ منصوبہ 2031 تک نافذ رہے گا

پاکستان نے بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی تاریخ کی پہلی قومی حکمت عملی جاری کر دی ہے۔ 2026 سے 2031 تک کے لیے تیار کیا گیا یہ پانچ سالہ منصوبہ وزارت انسانی حقوق نے عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے مرتب کیا ہے، اور اس کا مقصد ملک کے تقریباً 12 کروڑ بچوں کو تشدد، استحصال اور غفلت سے بچانے کے لیے ایک مربوط نظام قائم کرنا ہے۔
حکمت عملی پارلیمانی سیکرٹری برائے انسانی حقوق صبا صادق نے اسلام آباد میں منعقدہ قومی مشاورت کے دوران پیش کی۔ یہ مشاورت نومبر میں منیلا میں ہونے والی بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے سے متعلق دوسری عالمی وزارتی کانفرنس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ دو روزہ اجلاس میں سرکاری اہلکاروں، ماہرین، سول سوسائٹی اور نوجوانوں سمیت سو سے زائد افراد شریک ہوئے۔
اعداد و شمار تشویش ناک ہیں
حکمت عملی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار صورت حال کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ ملک میں ہر دس میں سے آٹھ بچے کسی نہ کسی صورت میں پرتشدد تادیب کا سامنا کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 12 سے 17 سال کے ہر 16 بچوں میں سے ایک بچہ آن لائن جنسی استحصال یا بدسلوکی کا شکار ہوتا ہے۔ دس سے 17 سال کی عمر کے آٹھ لاکھ 41 ہزار سے زائد بچے شادی شدہ ہیں، جبکہ لاکھوں بچے مزدوری پر مجبور ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر کے نصف سے زائد بچے سرکاری ریکارڈ میں درج ہی نہیں، جس سے ان کے تحفظ میں مزید دشواری پیدا ہوتی ہے۔
کس کس طرح کے تشدد کا احاطہ کیا گیا ہے؟
منصوبے میں جسمانی، جنسی اور نفسیاتی تشدد کے ساتھ ساتھ غفلت، کم عمری کی شادی، بچوں کی اسمگلنگ، چائلڈ لیبر اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے استحصال کو شامل کیا گیا ہے۔ بے گھر، مہاجر اور کچی آبادیوں میں رہنے والے بچوں کو سب سے زیادہ غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
عمل درآمد کا خاکہ بین الاقوامی سطح پر آزمودہ انسپائر فریم ورک پر مبنی ہے، جس میں مضبوط قوانین، محفوظ ماحول، والدین اور نگرانوں کی تربیت و معاونت، خاندانوں کی مالی استحکام، متاثرہ بچوں کے لیے بروقت خدمات اور زندگی کی مہارتوں کی تعلیم شامل ہے۔ حکمت عملی کا زور صرف واقعے کے بعد کارروائی پر نہیں، بلکہ تشدد کی روک تھام، تحفظ، بحالی اور انصاف تک رسائی کو ایک ہی نظام میں جوڑنے پر ہے۔



