جمعرات, 15 اکتوبر 2026
جمعرات, 15 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
امریکا کی آٹھ ریاستوں نے اوپن اے آئی کے خلاف مقدمات دائر کر دیے، چیٹ جی پی ٹی کی حفاظت پر سوالات، کمپنی کا الزامات سے انکار• اسلام آباد ایئرپورٹ پر 25 کروڑ 40 لاکھ روپے کا ونڈ شیئر الرٹ سسٹم لگے گا، چھ ماہ میں مکمل ہوگا، پی اے اے کے دو معاہدے طے پا گئے• نیشنل ویمنز ٹی ٹوئنٹی: مومنہ ریاست نے ایک رن دے کر چار وکٹیں لے لیں، فاطمہ ثنا کے ناقابل شکست 73 رنز، اسٹارز اور اسٹرائیکرز نے میچ جیت لیے• پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی توثیق کر دی، ایمرجنسی کی قرارداد 240 ووٹوں کے مقابلے میں 46 سے منظور، اپوزیشن کا احتجاج• حکومت نے ٹریژری بلز کی نیلامی سے 660 ارب روپے اکٹھے کر لیے، چھ ماہ کے بلز پر منافع پالیسی ریٹ سے 89 بنیادی پوائنٹس زیادہ برقرار• پشاور اسکول سانحہ: اموات کی تعداد 29 تک جا پہنچی، ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد اسکول مالک گرفتار، انکوائری کمیٹی قائم• پاکستان میں مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کا دور ختم، 15 اکتوبر سے تمام نئے درخواست گزاروں کو صرف ای پاسپورٹ ملے گا، پرانے پاسپورٹ میعاد ختم ہونے تک کارآمد رہیں گے• پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گر گئی، 21 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق، چالیس سے زائد زخمی، ملبے تلے مزید بچوں کی تلاش جاری•
سیاست

پشاور کی دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گر گئی، 21 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق، چالیس سے زائد زخمی، ملبے تلے مزید بچوں کی تلاش جاری

News Cuff

پشاور کی دیر کالونی میں واقع نجی اسکول کی چھت جمعرات کی صبح اچانک ڈھے گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے کلاس روم ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق اسپتال لائے جانے والے جاں بحق بچوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے، جبکہ ایک خاتون ٹیچر کی میت بھی اسپتال منتقل کی گئی۔ صبح سویرے ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی جا رہی تھی، مگر ملبہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ یہ تعداد بڑھتی گئی۔

اسپتال کے ترجمان محمد عاصم کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 13 برس یا اس سے کم تھیں۔ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور انتظامیہ خود ٹراما یونٹ میں موجود ہے تاکہ زخمیوں کے علاج میں کوئی تاخیر نہ ہو۔

زخمیوں کی تعداد پر مختلف اعداد سامنے آئے ہیں

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے مطابق ابتدائی مرحلے میں 20 زخمی بچے اسپتال لائے گئے، تاہم کیپٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی مجموعی تعداد چالیس سے زیادہ ہے، جن میں اساتذہ بھی شامل ہیں۔ کئی زخمی بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ مزید بچے اور عملہ اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں، اسی لیے تلاش کا عمل احتیاط اور تیزی، دونوں کے ساتھ جاری رکھا گیا ہے۔ حادثے کی وجہ تاحال سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی۔ بعض حکام کے مطابق عمارت بارش سے متاثر تھی، تاہم اس کی باقاعدہ تصدیق ابھی باقی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت دینے اور ریسکیو کام تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے، جبکہ صوبائی سیکرٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ کو کل تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ سانحہ ایک پرانے سوال کو پھر سامنے لے آیا ہے۔ پاکستان میں خستہ حال عمارتوں کے گرنے کے واقعات بار بار پیش آتے ہیں اور ہر بار اسکولوں اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی جانچ کا نظام زیر بحث آتا ہے۔ اس بار بھی اصل امتحان یہی ہو گا کہ رپورٹ صرف فائل میں بند ہوتی ہے یا ذمہ داروں کا تعین بھی ہوتا ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے