کراچی کے ٹراما سینٹر میں دس برس میں سڑک حادثات کے 3 لاکھ 28 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے

کراچی: شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف ٹراما نے دس برس کے اعداد جاری کر دیے ہیں، اور یہ اعداد شہر کی سڑکوں کی حالت خود بتا رہے ہیں۔ 2016 سے اب تک ادارے میں سڑک حادثات کے 3 لاکھ 28 ہزار 841 کیسز لائے جا چکے ہیں۔ یہ کراچی ٹراما سینٹر ہی ہے جہاں زخمیوں کا یہ سلسلہ روز رات بھر جاری رہتا ہے۔
دس سال کا پورا حساب
ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد صابر میمن نے یہ اعداد ٹراما آگاہی ہفتہ 2026 اور عالمی یومِ ٹراما کی اختتامی تقریب میں پیش کیے، جو ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے معین آڈیٹوریم میں ہوئی۔ ان کے مطابق اس عرصے میں ایمرجنسی میں کل 14 لاکھ 48 ہزار 624 مریض آئے، آتشیں اسلحے کے زخمیوں کے 9 ہزار 634 کیسز نمٹائے گئے، اور 5 ہزار 45 افراد ایسے تھے جو اسپتال پہنچتے پہنچتے دم توڑ چکے تھے۔ ادارے میں روزانہ ساڑھے پانچ سو سے زائد مریض لائے جاتے ہیں، علاج مکمل مفت ہے اور تقریباً 80 فیصد مریض صحتیاب ہو جاتے ہیں۔
قانون مان لیا جائے تو 70 فیصد حادثے رک سکتے ہیں
تقریب میں ڈی آئی جی ٹریفک پولیس پیر محمد شاہ نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی کر لی جائے تو سڑک حادثات میں 70 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چند منٹ بچانے کے لیے اپنی یا کسی اور کی جان خطرے میں ڈالنا کوئی عقلمندی نہیں۔ ٹراما سینٹر میں آنے والے کیسز میں سے بھی 70 فیصد کا تعلق سڑک حادثات سے ہوتا ہے۔ ماہرین نے تیز رفتاری، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ سے غفلت اور ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال سب سے بڑی وجوہات قرار دیں۔
اختتامی تقریب میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو، رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ اور ڈاؤ یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نازلی حسین سمیت طبی و سماجی شعبوں کی شخصیات شریک ہوئیں۔ پورے ہفتے کا ایک ہی پیغام تھا: سڑک پر بچایا گیا وقت کسی کی زندگی سے قیمتی نہیں ہو سکتا۔



