لینسٹ کاؤنٹ ڈاؤن رپورٹ: گرمی سے اموات میں 36 فیصد اضافہ، موسمیاتی تبدیلی کو عالمی صحت ایمرجنسی قرار دینے کا مطالبہ

دنیا بھر میں گرمی سے ہونے والی اموات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور اب سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو باقاعدہ طور پر عالمی صحت ایمرجنسی تسلیم کیا جائے۔ 2026 کی لینسٹ کاؤنٹ ڈاؤن رپورٹ، جو لندن کی برٹش لائبریری میں جاری کی گئی، خبردار کرتی ہے کہ صحت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پیرس معاہدے کے بعد سے نہ صرف بڑھے ہیں بلکہ کئی جگہوں پر ان کی رفتار بھی تیز ہو گئی ہے۔
گرمی کی شدت اور اموات کے اعداد
رپورٹ کے مطابق پیرس معاہدہ نافذ ہونے کے بعد گرمی سے ہونے والی سالانہ اموات میں اوسطاً 36 فیصد اضافہ ہوا۔ صرف 2023 میں گرمی سے ریکارڈ 7 لاکھ 10 ہزار اموات منسلک کی گئیں، جن میں سے 70 فیصد سے زیادہ کا تعلق انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا۔ 2016 سے 2023 کے درمیان ہر سال اوسطاً 5 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ اموات گرمی سے وابستہ رہیں۔ گرمی سے معیشت کو پہنچنے والا نقصان بھی 2025 میں ایک کھرب 7 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جبکہ اسی سال دنیا کی نصف سے زیادہ زمین کم از کم ایک ماہ تک شدید خشک سالی کی زد میں رہی۔
پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی
پاکستان کے لیے یہ انتباہ محض عالمی اعداد و شمار کا معاملہ نہیں۔ سابق وزیر صحت پنجاب پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے آبادیوں کو بے گھر کیا، صحت کے ڈھانچے کو نقصان پہنچایا، ادویات کی فراہمی میں خلل ڈالا اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں اور غذائی قلت کا خطرہ بڑھا دیا۔ ان کے بقول شدید گرمی سے سب سے زیادہ خطرہ بچوں، بزرگوں، کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو ہے۔
انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ گرمی سے بچاؤ کے عملی منصوبے بنائے جائیں، بروقت وارننگ کا نظام قائم ہو، اسپتالوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق مضبوط کیا جائے، بیماریوں کی نگرانی بہتر ہو اور صاف پانی و صفائی تک رسائی بڑھائی جائے۔ سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی خبردار کیا کہ شدید گرمی، اچانک سیلاب، کلاؤڈ برسٹ اور خراب ہوتی فضائی آلودگی بیماری اور موت کا سبب بن رہی ہے، صحت کی سہولتوں کو درہم برہم کر رہی ہے اور غربت و ذہنی دباؤ کو گہرا کر رہی ہے۔
کیا کرنا ہوگا؟
رپورٹ میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ صاف توانائی میں سرمایہ کاری ریکارڈ سطح پر پہنچی ہے اور کئی ملکوں نے صحت کے شعبے میں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے منصوبات اپنائے ہیں، مگر یہ پیش رفت خطرے کی رفتار سے بہت پیچھے ہے۔ ماحولیاتی سائنس کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عرفان خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ رپورٹ کے اجرائی بیان میں پاکستان کا ذکر تک نہیں، حالانکہ جرمن واچ کے کلائمیٹ رسک انڈیکس 2025 کے مطابق 2022 میں شدید موسمی واقعات سے سب سے زیادہ متاثر ملک پاکستان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمزور ملکوں کا تجربہ عالمی ترجیحات اور سرمایہ کاری کی بنیاد بننا چاہیے، اور متاثرہ آبادیوں کو فیصلوں میں شریک کیا جانا چاہیے۔



