لاہور میں ستمبر کی پولیو مہم میں بائیس لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے، نومبر میں دو سے آٹھ تاریخ تک نئی مہم چلے گی، شہر اپریل سے پولیو فری ہے

لاہور کے لیے یہ اعداد حوصلہ افزا ہیں، مگر محکمہ صحت کے افسران مطمئن بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ منگل کو ہونے والے اجلاس میں بتایا گیا کہ ستمبر کی مہم کے دوران شہر میں بائیس لاکھ سے زائد بچوں کو چھ دن میں پولیو کے قطرے پلائے گئے اور کوریج اٹھانوے فیصد رہی۔
اجلاس کی صدارت پنجاب ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر خالد پرویز اور لاہور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر آصف ارباب خان نے مشترکہ طور پر کی۔ اسی اجلاس میں اگلی مہم کی تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی، جو دو سے آٹھ نومبر تک چلے گی۔
اپریل سے کوئی وائرس نہیں ملا، پھر بھی خطرہ باقی
لاہور اپریل دو ہزار چھبیس سے پولیو فری چلا آ رہا ہے، یعنی اس دوران شہر میں وائرس کی موجودگی سامنے نہیں آئی۔ افسران نے اجلاس میں واضح کیا کہ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ لوگوں کی نقل و حرکت مسلسل جاری ہے اور ملک کے بعض حصوں میں وائرس اب بھی گردش کر رہا ہے، ایسے میں وائرس کسی بھی وقت دوبارہ شہر تک پہنچ سکتا ہے۔
رہ جانے والے بچے اصل امتحان
خالد پرویز نے ضلعی ٹیم سے کہا کہ یونین کونسل کی سطح پر جو خامیاں رہ گئی ہیں انہیں دور کیا جائے، اعداد و شمار کا معیار بہتر ہو اور نگرانی کے دوران جو بات سامنے آئے اس پر فوری عمل بھی ہو۔ ان کے بقول اصل کامیابی یہی ہے کہ کوئی اہل بچہ قطرے پینے سے رہ نہ جائے۔
ڈاکٹر آصف ارباب خان نے ضلعی منتظمین، فیلڈ ٹیموں اور سپروائزرز کے درمیان رابطے پر زور دیا اور کہا کہ نومبر کی مہم کی تیاری میں جوابدہی ہر سطح پر رکھنی ہوگی، ورنہ اب تک کی محنت ضائع ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔



