پاکستان اور یورپی یونین کا قانونی مائیگریشن کے راستے بڑھانے پر اتفاق، غیر قانونی مائیگریشن میں چونسٹھ فیصد کمی، سرحدی تعاون مزید مضبوط بنایا جائے گا

اسلام آباد: پاکستان اور یورپی یونین نے سرحدی سلامتی اور مائیگریشن کے انتظام میں تعاون بڑھانے اور پاکستانی ہنرمند کارکنوں کے لیے قانونی مائیگریشن کے مواقع وسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق یورپی کمشنر برائے داخلہ امور و مائیگریشن میگنس برنر کے اسلام آباد دورے میں ہونے والی ملاقاتوں میں ہوا، جن میں وہ وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے الگ الگ ملے۔
اعداد اس بار پاکستان کے حق میں بولے
یورپی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ اٹھارہ ماہ میں پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی مائیگریشن میں چونسٹھ فیصد کمی آئی ہے، اور صدر سے ملاقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ خطے میں ایسی کمی حاصل کرنے والا پاکستان واحد ملک ہے۔ برنر نے ایف آئی اے کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ادارے نے پیشہ ورانہ صلاحیت دکھائی ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مائیگریشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری ہے اور اگلا ہدف اسے مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
قانونی راستے کھولنے کی تجاویز بھی میز پر رہیں
پاکستان نے یورپی یونین سے کہا کہ غیر قانونی راستے بند کرنے کے ساتھ قانونی دروازے بھی کھولے جائیں۔ اسی تناظر میں یورپی ٹیلنٹ پارٹنرشپس کے تحت مواقع بڑھانے، پاکستان میں یورپی لیگل گیٹ وے آفس کے قیام پر غور اور کوسٹ گارڈز اور ایف آئی اے کی استعداد بڑھانے میں مدد کی بات ہوئی۔ یہ بھی بتایا گیا کہ یورپی ری ایڈمیشن معاہدے کے تحت برسوں میں تیس ہزار سے زائد افراد کو واپس لیا جا چکا ہے۔ دونوں فریق یورپی یونین کی ایسٹرن کوریڈور پہل پر مل کر کام کرنے اور آئندہ برس کے اوائل میں برسلز میں متوقع مائیگریشن اینڈ موبلٹی ڈائیلاگ میں پیش رفت آگے بڑھانے پر بھی متفق ہوئے۔
اصل امتحان اب یہی ہے کہ قانونی راستوں کے وعدے پاکستانی ہنرمندوں کے لیے عملی مواقع میں کب اور کتنی تیزی سے بدلتے ہیں۔



