اتوار, 18 اکتوبر 2026
اتوار, 18 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
بابوسر ٹاپ تین روز کی برف باری کے بعد کھل گیا، این ایچ اے نے برف ہٹا کر دونوں اطراف سے ٹریفک بحال کر دی• لاہور کے جیلانی پارک میں عالمی یوم خوراک پر دو روزہ فوڈ گالا ہوا، صفائی برقرار رکھنے کے لیے 60 سے زائد اہلکار تعینات رہے• سندھ کے مسیحی پادریوں نے عائلی قوانین بل میں تمام فرقوں کی برابر مشاورت اور آزاد قانونی جائزے کا مطالبہ کر دیا• پاکستان کا پہلا خلاباز 25 نومبر کو چین سے خلا روانہ ہوگا، 2035 میں چاند پر اترنے کا ہدف بھی رکھ دیا گیا• ’مینگو جٹ‘ پر شائقین کا فیصلہ آ گیا، سینما گھر خالی، کہانی اور ایڈیٹنگ پر سخت تنقید• لبنان کے سفیر نے امریکا ایران امن کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، اسلام آباد کی سفارت کاری پر پھر بات ہونے لگی• سیال پیرس خوراک نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح، 37 کمپنیاں شریک، پکی ہوئی بریانی پہلے دن توجہ کا مرکز بن گئی• حلیم گھر پر بنائیں: گندم، دالوں اور گوشت کی دھیمی آنچ پر پکنے والی ڈش، اصل راز اس کی گھٹائی میں ہے•
سیاست

پاک فوج نے اپر کرم میں افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ کا بھرپور جواب دیا، ٹاپ سر چوکی پر گولہ باری اور شپولا بیس کیمپ تباہ ہونے کی اطلاعات

News Cuff

اسلام آباد: اپر کرم میں ہفتے کے روز سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ کے بعد پاک افغان سرحد پر کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی۔ سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز اور سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغان طالبان فورسز نے ضلع اپر کرم کے تائدہ سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی، جس کا مقصد، ذرائع کے بقول، دہشت گردوں کو سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے میں مدد دینا تھا۔

بھاری ہتھیاروں سے جواب، چوکیاں تباہ

پاک فوج نے بھاری ہتھیاروں سے بھرپور جواب دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق توپ خانے سے افغان طالبان کی ٹاپ سر چوکی اور شپولا بیس کیمپ کو نشانہ بنایا گیا اور شپولا کیمپ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جبکہ کئی دوسری چوکیاں چھوڑ کر اہلکار فرار ہو گئے۔ اے پی پی کے مطابق غزگڑھی سرحد پر جوابی کارروائی میں متعدد افغان طالبان اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ان دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔

مذاکرات والی بات کے اگلے ہی دن

یہ جھڑپ اس بیان کے ایک دن بعد ہوئی ہے جس میں دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ افغانستان سے مذاکرات مشروط ہی ہو سکتے ہیں، غیر مشروط نہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں یہ تاثر بھی رد کیا تھا کہ پاکستان بات چیت سے بھاگ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان سمیت کسی سے بھی گفتگو سے نہیں کترا رہا اور دوست ممالک کی ایسی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا جو پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے اور خطے میں امن لانے میں مدد دیں۔ میدان میں گولہ باری اور سفارتی سطح پر یہ محتاط لہجہ، دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے