پاکستان میں ہر تیسرا بالغ ذہنی مرض میں مبتلا ہے، ملک کے پہلے قومی سروے میں 32 فیصد افراد میں ذہنی و رویے کی بیماری کی تشخیص سامنے آ گئی

کراچی: یہ اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں، مگر اب یہ اندازے نہیں رہے۔ پاکستان میں پہلی بار ملک گیر سطح پر کیے گئے ذہنی صحت کے سروے میں سامنے آیا ہے کہ یہاں ہر تیسرا بالغ کسی نہ کسی ذہنی و رویے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی سے وابستہ محققین کے مطابق یہ ملک میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا اور جامع مطالعہ ہے اور اس کے نتائج برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔
اٹھارہ ہزار افراد، پانچ سال کی محنت
یہ سروے 2018 سے 2022 کے درمیان ہوا اور چاروں صوبوں سے تقریباً اٹھارہ ہزار بالغ افراد اس میں شامل ہوئے۔ قیادت ہمدرد یونیورسٹی کراچی کے پروفیسر رضا الرحمٰن نے کی، جبکہ برطانیہ کی برائٹن اینڈ سسیکس میڈیکل اسکول، امریکا کی یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا اور ملک بھر کے نفسیاتی ادارے بھی شریک رہے۔ نمونے اور علاقوں کے انتخاب میں پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس نے مدد کی، اسی لیے محققین اسے ملک کی ذہنی صحت کی پہلی قابل اعتماد قومی تصویر قرار دیتے ہیں۔
پی ٹی ایس ڈی سب سے آگے
سروے کے مطابق 32 فیصد بالغ اس وقت کسی ذہنی و رویے کی بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور 38 فیصد اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا شکار رہے ہیں۔ ہر پانچواں بالغ پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر یعنی پی ٹی ایس ڈی کے معیار پر پورا اترا، دس فیصد سے زیادہ افراد میں ڈپریشن پایا گیا اور چھ فیصد نے پچھلے مہینے میں خودکشی کے خیالات آنے کی اطلاع دی۔ بیماری کی شرح بڑی عمر کے افراد، کم تعلیم و آمدنی والوں، بے روزگاروں اور بیوہ، طلاق یافتہ یا علیحدہ رہنے والوں میں نمایاں طور پر زیادہ ملی، اور محققین کے مطابق یہ مسائل خاندانی زندگی، تعلقات اور کام کرنے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔
اب پالیسی کی باری
مرکزی محقق پروفیسر رضا الرحمٰن کا کہنا ہے کہ یہ سروے وہ ثبوت فراہم کرتا ہے جس سے موثر ذہنی صحت پالیسی اور خدمات بن سکتی ہیں؛ یہ بتاتا ہے کہ خطرہ کسے زیادہ ہے اور مدد کی ضرورت کہاں سب سے شدید ہے۔ برائٹن اینڈ سسیکس میڈیکل اسکول کی سینئر شریک مصنف پروفیسر انجم میمن نے کہا کہ دہائیوں تک پالیسی سازوں کو ٹکڑوں میں ملنے والے مقامی مطالعوں یا بین الاقوامی اندازوں پر انحصار کرنا پڑا، اب پہلی بار ٹھوس قومی ثبوت موجود ہے۔ محققین ذہنی صحت کو بنیادی صحت کی دیکھ بھال سے جوڑنے، مقامی سطح پر معاونت بڑھانے، فرنٹ لائن عملے کی تربیت اور بدنامی ختم کرنے کی سفارش کرتے ہیں۔ پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی کے صدر پروفیسر واجد اخونزادہ نے خبردار کیا کہ ملک میں ماہرین کی شدید کمی ہے اور یہ نتائج آئندہ کی منصوبہ بندی کی بنیاد بنیں گے۔



