پاکستان کی ڈیجیٹل سبسڈی ایک ارب ڈالر سے بڑھ گئی، یو ایس ایف نے سترہ ہزار کلومیٹر فائبر بچھا دیا، فائیو جی کے لیے ٹاوروں کی فائبرائزیشن کا ہدف ساٹھ فیصد مقرر

اسلام آباد: ملک کے دور دراز علاقوں کو انٹرنیٹ سے جوڑنے کی کوشش ایک بڑے سنگ میل تک پہنچ گئی ہے۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے منگل کو بتایا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے ذریعے دی جانے والی ڈیجیٹل سبسڈی 1.054 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اسلام آباد میں شروع ہونے والے ایشیا پیسیفک ٹیلی کمیونٹی سمپوزیم کے افتتاحی خطاب میں کیا، جو 15 اکتوبر تک جاری رہے گا۔
سترہ ہزار کلومیٹر فائبر، تین کروڑ سے زائد افراد مستفید
وزیر کے مطابق یو ایس ایف اب تک سترہ ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھا چکا ہے۔ فائبر براڈ بینڈ جن گھروں تک پہنچا، ان کی تعداد 2024 میں تیس لاکھ سے کم تھی، اب پچاس لاکھ سے اوپر جا چکی ہے۔ موبائل ٹاوروں کی فائبرائزیشن بھی 15 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد سے اوپر ہے، جبکہ فائیو جی کی فراہمی کے لیے ہدف ساٹھ فیصد رکھا گیا ہے۔ یو ایس ایف کے چیف ایگزیکٹو مدثر نوید نے بتایا کہ فنڈ کے 185 منصوبوں میں سے 158 مکمل ہو چکے ہیں، ان پر 169 ارب روپے سے زائد سبسڈی لگی اور تین کروڑ 84 لاکھ افراد کو براہ راست فائدہ پہنچا۔
اب بحث صرف کوریج کی نہیں رہی
تین روزہ سمپوزیم کی میزبانی وزارت آئی ٹی، یو ایس ایف پاکستان اور اے پی ٹی سیکرٹریٹ مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، جس میں خطے کے وزرا، ریگولیٹرز اور ٹیلی کام ماہرین شریک ہیں۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ دنیا میں تقریباً دو ارب بیس کروڑ افراد، اور ایشیا پیسیفک کی لگ بھگ 48 فیصد آبادی اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہے، اس لیے رابطہ اب سہولت نہیں، تعلیم، صحت اور معیشت کی ضرورت بن چکا ہے۔ ایجنڈے میں گیگابٹ فائبر، سیٹلائٹ نیٹ ورک، سستے اسمارٹ فون کی مالی سہولت اور دیہی علاقوں میں مصنوعی ذہانت کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہے۔ اے پی ٹی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر ماسانوری کونڈو نے رکن ممالک پر زور دیا کہ یونیورسل سروس کے پرانے ڈھانچے کو لچکدار اور نتائج پر مبنی بنایا جائے، ورنہ ڈیجیٹل فاصلہ کم ہونے کے بجائے بڑھتا رہے گا۔



